پیرس (فرانس): فرانس میں گزشتہ ہفتے ہونے والے پرتشدد مظاہروں اور لوٹ مار کے واقعات کے اعادے کو روکنے کے لیے حکومت نے ہفتے کے روز ملک کے بڑے شہروں میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے ہیں۔ پولیس، ہیلی کاپٹروں اور بکتر بند گاڑیوں کی تعیناتی کے ساتھ تقریباً 70 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں، جبکہ دارالحکومت پیرس کے بعض علاقوں میں کرفیو نافذ ہے۔
فرانسیسی حکام کے مطابق ملک بھر میں سیکڑوں احتجاجی اجتماعات متوقع ہیں۔ وزیراعظم سیباستیاں لیکورنو نے جمعے کی شب خبردار کیا تھا کہ تشدد کا خطرہ بدستور بلند ہے۔
احتجاج کے پیش نظر وسطی پیرس میں دکانوں اور ریستورانوں کو لکڑی کے تختوں سے بند کر دیا گیا ہے، جبکہ دنیا بھر میں مشہور لوور میوزیم اور میوزے دورسے بھی بند رکھے گئے ہیں۔ حکام نے مختلف علاقوں میں اجتماعات پر پابندیاں اور نقل و حرکت سے متعلق سخت اقدامات کیے ہیں۔
فرانسیسی حکومت گزشتہ ہفتے ہونے والے مظاہروں کے دوران لوٹ مار، آتش زنی اور توڑ پھوڑ کے واقعات کے بعد سکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے پر مجبور ہوئی ہے۔ گزشتہ ہفتے ملک بھر میں پانچ لاکھ سے زائد افراد نے احتجاج میں شرکت کی تھی، جس کے دوران کئی شہروں میں برسوں کے بدترین شہری تشدد کے مناظر دیکھنے میں آئے۔
احتجاج ملک گیر تحریک میں تبدیل
فرانس میں احتجاج کا آغاز ہائی اسکول کے طلبہ نے تعلیمی حالات اور تدریسی سہولتوں کے خلاف کیا تھا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ تحریک ملک گیر صورت اختیار کر گئی۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روزمرہ اخراجات میں اضافے کے خلاف عوامی غصے نے بھی اس تحریک کو مزید تقویت دی۔
صدر ایمانوئل میکرون نے جمعے کو ثانوی اسکولوں کے طلبہ کے نمائندوں سے ملاقات کی، لیکن مذاکرات کے بعد طلبہ نمائندوں نے حکومت سے مطالبات پر ٹھوس تجاویز پیش کرنے تک احتجاج جاری رکھنے پر زور دیا۔
حکومت نے احتجاج کرنے والوں کے جائز مطالبات اور مظاہروں کے دوران ہونے والی توڑ پھوڑ کے واقعات میں فرق واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ حکام نے گزشتہ ہفتے کے تشدد کا الزام انتہائی بائیں بازو کے بعض گروہوں پر عائد کیا ہے۔
سیکڑوں کو قید کی سزا
فرانسیسی حکام کے مطابق گزشتہ ہفتے کے مظاہروں کے دوران پیش آنے والے واقعات پر عدالتی کارروائی کے نتیجے میں 217 افراد کو جیل بھیجا جا چکا ہے، جن میں تقریباً نصف ایسے افراد ہیں جنہیں اس سے پہلے کسی جرم میں سزا نہیں ہوئی تھی۔
مغربی فرانس میں ایک انتہائی بائیں بازو کے گروپ نے اپنی ویب سائٹ پر حامیوں سے پولیس کی کارروائی سے بچنے اور اپنی نقل و حرکت غیر متوقع رکھنے کی اپیل بھی کی ہے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ نئے احتجاج کے دوران بھی بعض گروہ پُرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔
تصادم کا خدشہ
فرانس میں سیاسی کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب صدارتی انتخابات میں تقریباً چھ ماہ باقی ہیں۔ تازہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق انتہائی دائیں بازو کی رہنما مارین لے پین صدارتی دوڑ میں آگے ہیں، جبکہ حالیہ بدامنی سے ان کی سیاسی پوزیشن مزید مضبوط ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
لے پین ہفتے کے اختتام پر پیرس کے جنوب میں واقع شہر اورلیاں میں اپنی جماعت نیشنل ریلی (آر این) کی کانگریس کی میزبانی کر رہی ہیں، جس میں ہزاروں حامیوں کی شرکت متوقع ہے۔ دوسری جانب ان کے مخالفین بھی جوابی احتجاج کے لیے شہر کا رخ کر رہے ہیں، جس کے باعث مقامی حکام کو تصادم کا خدشہ ہے۔
اورلیاں میں کاروباری مراکز بھی بند کیے گئے ہیں۔ حکام نے مخالف مظاہرین کے ممکنہ اجتماع کے پیش نظر نیشنل ریلی کے خلاف احتجاج کو شہر کے مرکز میں منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی۔
لیون اور پیرس میں مظاہروں پر پابندیاں
فرانس کے جنوب مشرقی شہر لیون میں بھی ہفتے کے اختتام پر شہر کے مرکزی علاقوں میں مظاہروں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ پیرس میں پولیس نے مزدور یونینوں کو باسٹیل اور ناسیوں چوکوں کے درمیان مارچ کے لیے پہلے دی گئی اجازت منسوخ کرکے متبادل راستہ تجویز کیا، تاہم یونینوں نے سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے پابندی کے باوجود اپنے طے شدہ راستے پر مارچ کرنے کا اعلان کیا۔
بندرگاہی شہر مارسیے میں حکام نے ابتدائی طور پر احتجاج پر پابندی عائد کی تھی، تاہم جمعے کو مزدور یونین کے زیر اہتمام ایک مظاہرے کی غیر معمولی بنیادوں پر اجازت دے دی گئی۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا اظہارِ تشویش
احتجاجی اجتماعات پر پابندیوں اور سخت سکیورٹی اقدامات پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی تنقید کی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان اقدامات کو آمرانہ طرزِ حکمرانی کی جانب پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پُرامن احتجاج کا حق متاثر ہو رہا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کی سینئر یورپ محقق ایوا کوسے نے کہا کہ پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وہ پُرامن مظاہروں کے انعقاد کو محفوظ بنائے اور عوام کو پرتشدد بدامنی سے بھی تحفظ فراہم کرے۔ انہوں نے حالیہ اجتماعات میں ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ہتھیاروں سے بچوں کے شدید زخمی ہونے کی اطلاعات پر بھی تشویش ظاہر کی۔
حکام نے گزشتہ ہفتے پولیس کی تیاریوں اور انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کے نظام پر اٹھنے والے سوالات کے بعد اس ہفتے سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد میں تقریباً 20 فیصد اضافہ کیا ہے۔
انتخابات سے پہلے حکومت کو بڑا چیلنج
فرانس میں جاری احتجاج اور تشدد نے ملک کی عالمی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔ آنے والے انتخابات کو ملک کی جدید سیاسی تاریخ کا فیصلہ کن موڑ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ حکومت کے بڑھتے ہوئے قرضوں نے بھی سرمایہ کاروں کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق مارین لے پین صدارتی انتخابات کے پہلے اور دوسرے دونوں مرحلوں میں کامیابی کی پوزیشن میں دکھائی دے رہی ہیں۔ ایسے میں حکومت کے لیے ایک طرف مہنگائی اور تعلیم سے متعلق عوامی شکایات کا ازالہ کرنا اور دوسری جانب امن و امان برقرار رکھنا ایک بڑا امتحان بن گیا ہے۔
فرانس میں ہفتے کے روز ہونے والے مظاہروں کے نتائج نہ صرف حکومت کی امن و امان سے نمٹنے کی صلاحیت بلکہ آئندہ انتخابات سے پہلے ملک کی سیاسی سمت پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔


