امریکی نیوکلیئر لیباریٹری میں آتشزدگی، ایمرجنسی کا اعلان

امریکی ریاست جنوبی کیرولائنا میں جوہری تحقیق سے وابستہ ایک اہم لیبارٹری میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی۔

رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ توانائی کے زیر انتظام سوانا ریور سائٹ نامی وسیع جوہری کمپلیکس میں واقع سوانا ریور نیشنل لیبارٹری میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ جس کے باعث جوہری تنصیب کے داخلی راستے عارضی طور پر بند کرنا پڑے، جبکہ علاقے میں فضائی، زمینی، دریائی اور ریل کی آمدورفت پر بھی پابندیاں عائد کی گئیں۔

صورت حال کی سنگینی کے پیش نظر حکام نے سائٹ ایریا ایمرجنسی کا اعلان کیا، جو اس تنصیب کے ہنگامی نظام میں بلند درجے کی وارننگ شمار ہوتی ہے۔

احتیاطی تدابیر کے تحت تنصیب کے داخلی راستوں پر آمدورفت روک دی گئی اور متاثرہ علاقے میں فضائی، ریل، دریائی اور زمینی نقل و حرکت محدود کر دی گئی۔ ایسے ملازمین کو بھی محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کی گئی جو امدادی کارروائیوں یا تنصیب کو محفوظ انداز میں بند کرنے کے عمل میں شریک نہیں تھے۔

اس واقعے میں سب سے اہم سوال تابکار مادوں کے ممکنہ اخراج اور عوامی سلامتی سے متعلق تھا، کیونکہ یہ تنصیب جوہری مواد پر تحقیق اور اس کے انتظام سے وابستہ ہے۔

مقامی حکام کا کہنا ہےکہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے، تاہم واقعے کے دوران ایک ملازم معمولی زخمی ہوا جسے طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ حکام نے متاثرہ عمارت سے باہر تابکار آلودگی کی نشاندہی نہ ہونے کی اطلاع دی ہے۔

ابتدائی اطلاعات میں متاثرہ لیبارٹری میں آگ کے ساتھ تابکاری سے متعلق اخراج کا ذکر بھی سامنے آیا، تاہم حکام نے واضح کیا کہ متاثرہ عمارت سے باہر تابکار آلودگی کی نشاندہی نہیں ہوئی۔ سائٹ انتظامیہ کے مطابق تابکاری کی جانچ کے دوران آلودگی کی قابلِ شناخت سطحیں سامنے نہیں آئیں۔

اس لیے دستیاب سرکاری معلومات کی بنیاد پر علاقے کے عوام کو نقصان پہنچنے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ تاہم کسی جوہری تنصیب میں آگ لگنے کے واقعات کو احتیاط سے دیکھنا ضروری ہوتا ہے، کیونکہ اس نوعیت کے مقامات پر تابکار مواد کی موجودگی کے باعث معمول کی صنعتی آگ کے مقابلے میں اضافی حفاظتی اقدامات درکار ہو سکتے ہیں۔

آگ لگنے کی حتمی وجہ فوری طور پر سامنے نہیں آئی۔ حکام کی جانب سے واقعے کی وجہ کے تعین سے متعلق تفصیلات جاری کیے جانے کا انتظار ہے۔

سوانا ریور سائٹ امریکا کے اہم جوہری مراکز میں شمار ہوتی ہے۔ اس کمپلیکس کی تعمیر 1950 کی دہائی کے اوائل میں سرد جنگ کے دوران کی گئی تھی، جب امریکا اور سوویت یونین کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور دفاعی صلاحیت بڑھانے کی دوڑ جاری تھی۔

ماضی میں اس مقام پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہونے والے مواد، خصوصاً پلوٹونیم-239 اور ٹریٹیم، کی پیداوار کی جاتی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کی سرگرمیوں میں تبدیلی آئی اور اب یہاں جوہری مواد کے انتظام، تابکار فضلے کی نگرانی، ماحولیاتی صفائی اور متعلقہ سائنسی تحقیق پر توجہ دی جاتی ہے۔

اس مقام پر قائم سوانا ریور نیشنل لیبارٹری جوہری مواد اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق تحقیق بھی کرتی ہے۔ اسی تاریخی پس منظر اور موجودہ سرگرمیوں کی وجہ سے لیبارٹری میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد حکام نے فوری طور پر ہنگامی اقدامات کیے۔