جاپان میں امریکی فوجیوں کی قانون کی خلاف ورزی؛ ایک ماہ میں دوسرا فوجی گرفتار

ٹوکیو: جاپان نے امریکی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے فوجی اہلکاروں کے نظم و ضبط کو بہتر بنانے اور ان کی جانب سے قوانین کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کرے۔ یہ مطالبہ جاپان کے جنوبی جزیرے اوکیناوا میں ایک اور امریکی میرین اہلکار کی گرفتاری کے بعد سامنے آیا ہے۔

اےایف پی کے مطابق جاپان کے وزیر دفاع شن جیرو کوئزومی نے بتایا کہ امریکی فوجی اہلکار کو شراب کے نشے میں گاڑی چلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب امریکی فوج نے پہلے ہی اپنے اہلکاروں کے لیے رات کے اوقات میں نقل و حرکت پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔

پولیس کے مطابق امریکی میرین کارپورل کیلون مونٹویا کارڈونا کو 31 اکتوبر کی شب تقریباً 12 بج کر 25 منٹ پر اوکیناوا شہر میں گرفتار کیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان کے خون میں الکُحل کی مقدار جاپان میں مقررہ قانونی حد سے دو گنا سے بھی زیادہ پائی گئی۔ یہ گرفتاری ایک مبینہ ہٹ اینڈ رن واقعے کی اطلاع کے بعد عمل میں آئی۔

خاتون کے قتل کا مقدمہ اور فوجیوں پر کرفیو

یہ دوسرا واقعہ اوکیناوا میں ایک امریکی میرین اہلکار ڈیون جیکب بالارڈ کی گرفتاری کے چند ہفتوں بعد پیش آیا ہے۔ بالارڈ کو 4 اکتوبر کو مقامی خاتون اینا یاگی کے قتل اور ڈکیتی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ جاپانی استغاثہ نے 26 اکتوبر کو ان کے خلاف قتل اور ڈکیتی کے الزامات میں فرد جرم عائد کی تھی۔ بالارڈ نے الزامات کی تردید کی ہے۔

اس واقعے کے بعد امریکی فوج نے اوکیناوا میں اپنے اہلکاروں کی نقل و حرکت محدود کرتے ہوئے 9 اکتوبر سے 30 روز کے لیے رات 12 بجے سے صبح 5 بجے تک کرفیو نافذ کیا تھا۔ اس کے علاوہ فوجی سرگرمیاں 48 گھنٹوں کے لیے روکنے اور اہلکاروں کے لیے شراب نوشی پر پابندی جیسے اقدامات بھی کیے گئے تھے۔

جاپان کا امریکا سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ

جاپانی وزیر دفاع شن جیرو کوئزومی نے کہا کہ کرفیو کے باوجود ایک اور امریکی فوجی کا مبینہ طور پر قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گرفتار ہونا انتہائی تشویش ناک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکام کو اس معاملے کی سنجیدگی کا احساس کرنا چاہیے اور رات کے اوقات میں پابندیوں پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جاپان اور امریکہ کے اعلیٰ سطح کے حکام فوجی اہلکاروں کے طرز عمل اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات پر بات چیت کر رہے ہیں۔ جاپان چاہتا ہے کہ ان مذاکرات کے نتائج جلد سامنے آئیں اور عملی اقدامات کیے جائیں۔

اوکیناوا میں امریکی فوجی اڈوں پر تحفظات

اوکیناوا طویل عرصے سے امریکی فوجی اہلکاروں کے جرائم، شور، ماحولیاتی آلودگی اور مقامی آبادی پر فوجی اڈوں کے اثرات کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔

اوکیناوا میں تقریباً 54 ہزار امریکی فوجی تعداد موجود ہیں، یہاں امریکا کے بیشتر فوجی اڈے قائم ہیں۔ ماضی میں بھی امریکی فوجیوں کے خلاف مختلف جرائم کے واقعات پر مقامی سطح پر احتجاج اور فوجی نظم و ضبط بہتر بنانے کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں۔