واشنگٹن ڈی سی : امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو غیر معمولی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی نے ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرکے کانگریس کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
یہ کامیابی امریکی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے پہلے دو سال ریپبلکنز کو کانگریس میں برتری حاصل تھی، لیکن اب آخری دو برسوں میں انہیں ڈیموکریٹس کی مضبوط مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس، رائٹرز اور دیگر عالمی ذرائع ابلاغ کی تازہ رپورٹس کے مطابق ڈیموکریٹس نے روایتی ریپبلکن ریاستوں میں بھی کامیابی حاصل کرکے کئی دہائیوں کے سیاسی رجحانات بدل دیے ہیں۔

سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی تاریخی پیش رفت
سینیٹ میں ڈیموکریٹس نے ریپبلکنز سے کم از کم سات اہم نشستیں چھین لیں، جن میں شامل ہیں ٹیکساس، کنساس، آئیووا،اوہائیو،مین، شمالی کیرولائنا اور جنوبی کیرولائنا شامل ہیں
ٹیکساس اور کنساس میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کو امریکی سیاست کا بڑا اپ سیٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ کنساس میں تقریباً ایک صدی بعد ڈیموکریٹ امیدوار نے سینیٹ کی نشست جیتی، جبکہ ٹیکساس میں بھی ڈیموکریٹس نے طویل عرصے سے جاری ریپبلکن بالادستی کو توڑ دیا۔

امریکی سینیٹ میں پہلی بار مسلمان کی انٹری
مشی گن سے ڈیموکریٹ امیدوار عبدل السید نے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دے کر تاریخی کامیابی حاصل کی۔
اس کامیابی کے ساتھ وہ امریکی سینیٹ کے پہلے مسلمان رکن بننے جا رہے ہیں۔ ان کی جیت کو امریکی سیاست میں مسلم نمائندگی کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

ایوان نمائندگان میں بھی ریپبلکنز کو بڑا نقصان
ایوان نمائندگان کی 435 نشستوں میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے 218 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹس نے کئی ایسے انتخابی حلقوں میں کامیابی حاصل کی جہاں 2024 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ نے نمایاں برتری حاصل کی تھی۔
ٹیکساس، فلوریڈا اور پنسلوانیا سمیت مختلف ریاستوں میں ڈیموکریٹس نے ریپبلکن امیدواروں کو شکست دی۔ کئی حلقوں میں ووٹرز کا رجحان حیران کن طور پر تبدیل ہوا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے ڈیموکریٹس کی ایوان نمائندگان میں کامیابی بھی قرار دے دی ہے، اگرچہ متعدد حلقوں میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔
گورنر شپ کے انتخابات میں بھی ڈیموکریٹس کامیاب
مڈٹرم انتخابات میں صرف کانگریس ہی نہیں بلکہ مختلف ریاستوں میں گورنر شپ کے مقابلے بھی اہم رہے۔
جارجیا میں ڈیموکریٹ کیشا لانس باٹمز کامیاب ہوئیں اور کسی امریکی ریاست کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر بنیں۔
ٹیکساس میں ڈیموکریٹ جینا ہینوجوسا نے کامیابی حاصل کی اور ریاست کی پہلی لاطینی خاتون گورنر بننے جا رہی ہیں۔
فلوریڈا میں ریپبلکن بائرن ڈونلڈز نے کامیابی حاصل کرکے امریکی تاریخ کے پہلے سیاہ فام ریپبلکن گورنر کا اعزاز حاصل کیا۔
ابتدائی گورنر شپ نتائج میں ڈیموکریٹس کو 24 جبکہ ریپبلکنز کو 18 ریاستوں میں برتری یا کامیابی حاصل ہوئی۔
ٹرمپ کی شکست کی وجوہات
ایران کے ساتھ جنگ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے امریکی عوام میں تشویش پیدا کی۔ تیل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے بھی حکومتی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے۔
روزمرہ اشیائے ضروریہ، رہائش، صحت اور توانائی کے اخراجات امریکی ووٹرز کے اہم مسائل رہے۔ بڑی تعداد میں ووٹرز نے ملک کی سمت اور حکومتی کارکردگی پر ناراضی ظاہر کی۔ تقریباً نصف ووٹرز نے ان انتخابات کو ٹرمپ کے خلاف اپنی ناراضی ظاہر کرنے کا موقع سمجھا۔

ٹرمپ کی ڈیموکریٹس کو مبارکباد
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کی کامیابی پر انہیں مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اچھا کام کیا ہے۔
فاکس نیوز سے گفتگو میں ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ ایران جنگ انتخابی شکست کی ایک وجہ ہوسکتی ہے، تاہم انہوں نے اپنی ذاتی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر وہ خود بیلٹ پر موجود ہوتے تو ریپبلکنز بھاری اکثریت سے کامیاب ہوتے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ڈیموکریٹس کی جانب سے منظور کیے جانے والے ایسے قوانین جن سے وہ اتفاق نہیں کریں گے، انہیں صدارتی ویٹو کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
کانگریس کے دونوں ایوانوں پر ڈیموکریٹس کے کنٹرول کے بعد امریکی سیاست میں طاقت کا توازن تبدیل ہوگیا ہے۔
اس کے نتیجے میں ٹرمپ کو اپنی باقی مدت کے دوران کئی معاملات پر ڈیموکریٹس سے مذاکرات کرنا پڑیں گے۔ ٹرمپ کی قانون سازی کی تجاویز کو کانگریس میں سخت مخالفت کا سامنا ہوگا۔ ڈیموکریٹس صدارتی انتظامیہ کے اقدامات کی تحقیقات اور سماعتیں کرسکیں گے۔حکومتی عہدیداروں اور عدالتی تقرریوں کی منظوری میں رکاوٹیں پیدا ہوسکتی ہیں۔ ایران جنگ، خارجہ پالیسی، مہنگائی، امیگریشن اور تجارتی محصولات پر سخت پارلیمانی نگرانی متوقع ہے۔ صدر کے پاس قانون سازی کو ویٹو کرنے کے اختیارات برقرار رہیں گے اور کانگریس دو تہائی اکثریت سے ویٹو کو مسترد کرسکتی ہے۔
ایران جنگ کے مستقبل پر کیا اثر پڑے گا؟
ڈیموکریٹس نے انتخابی مہم میں ایران جنگ کے خاتمے اور امریکی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کے وعدے کیے تھے۔ کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد وہ ایران جنگ کے اخراجات، فوجی کارروائیوں اور انتظامیہ کے فیصلوں پر زیادہ سخت سوالات اٹھا سکتے ہیں۔
تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ڈیموکریٹس کی کامیابی کے نتیجے میں ایران جنگ فوری طور پر ختم ہوجائے گی، کیونکہ امریکی صدر کے پاس خارجہ پالیسی اور فوجی معاملات میں اہم آئینی اختیارات موجود ہیں


