گوگل میپس کو ٹریفک جام کا پتا کیسے چلتا ہے؟ راز جان کر حیران رہ جائیں گے

لندن: دنیا بھر میں کروڑوں افراد روزانہ سفر کے دوران گوگل میپس کا استعمال کرتے ہیں تاکہ ٹریفک جام سے بچ سکیں اور کم وقت میں اپنی منزل تک پہنچ سکیں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ سڑکوں پر ہر جگہ کیمرے یا ٹریفک مانیٹرنگ اہلکار موجود نہ ہونے کے باوجود گوگل میپس کو کیسے معلوم ہوجاتا ہے کہ کس شاہراہ پر گاڑیوں کی قطاریں لگی ہیں اور کہاں ٹریفک رواں دواں ہے؟

اس کا جواب جدید ٹیکنالوجی، اسمارٹ فونز سے حاصل ہونے والے لوکیشن سگنلز، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور کروڑوں صارفین کے اجتماعی ڈیٹا میں چھپا ہے۔ گوگل میپس محض نقشہ دکھانے والی ایپلی کیشن نہیں بلکہ ایک ایسا جدید ڈیجیٹل نظام ہے جو سڑکوں کی صورتحال کا مسلسل تجزیہ کرکے ڈرائیوروں کو ٹریفک کی تازہ ترین صورت حال سے آگاہ کرتا ہے۔

اسمارٹ فون کیسے خبر دیتے ہیں؟

گوگل میپس کے ٹریفک سسٹم کا سب سے اہم ذریعہ اسمارٹ فونز سے حاصل ہونے والا نیویگیشن ڈیٹا ہے۔ جب لوگ گوگل میپس پر راستہ تلاش کرکے نیویگیشن شروع کرتے ہیں تو ان کے موبائل فون سے جی پی ایس لوکیشن، سفر کے راستے اور بعض ڈیوائس سینسرز سے متعلق معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔

فرض کریں کہ ایک شاہراہ سے بیک وقت سینکڑوں گاڑیاں گزر رہی ہیں۔ ان میں سے متعدد گاڑیوں میں موجود مسافر گوگل میپس استعمال کر رہے ہیں۔ ان ڈیوائسز سے حاصل ہونے والے اجتماعی اور گمنام ڈیٹا کا تجزیہ کرکے گوگل اندازہ لگاتا ہے کہ اس سڑک پر گاڑیاں کتنی رفتار سے چل رہی ہیں اور ٹریفک کی روانی معمول کے مطابق ہے یا نہیں۔

اگر کسی شاہراہ پر گاڑیوں کی رفتار اچانک کم ہوجائے تو سسٹم اس تبدیلی کو ٹریفک کی ممکنہ سست روی یا رش کی علامت سمجھتا ہے۔

سبز، نارنجی اور سرخ رنگوں کا راز

گوگل میپس پر مختلف رنگ محض خوب صورتی کے لیے نہیں ہوتے بلکہ یہ سڑکوں کی ٹریفک صورت حال کی نشاندہی کرتے ہیں۔

سبز رنگ: سڑک پر ٹریفک کی روانی معمول کے مطابق ہے۔

نارنجی رنگ: ٹریفک کی رفتار کم ہے اور سڑک پر درمیانے درجے کا رش ہے۔

سرخ رنگ: گاڑیاں معمول سے بہت سست رفتار ہیں اور شدید ٹریفک کی صورت حال ہوسکتی ہے۔

گہرا سرخ رنگ: بعض نقشوں میں انتہائی سست رفتار یا شدید تاخیر کی نشاندہی کرتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر کسی سڑک پر عام طور پر گاڑیاں 50 سے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتی ہوں لیکن اچانک ان کی رفتار بہت کم ہوجائے تو گوگل کا نظام اس سڑک کو ٹریفک کی شدت کے مطابق نمایاں کردیتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کا استعمال

گوگل میپس صرف موجودہ ٹریفک کی صورت حال نہیں دیکھتا بلکہ مستقبل میں ممکنہ رش کی پیش گوئی بھی کرتا ہے۔

اس مقصد کے لیے مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کی مدد سے مختلف اوقات اور دنوں کے ٹریفک ریکارڈ کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر پیر سے جمعہ تک صبح دفاتر اور اسکولوں کے اوقات میں کسی مخصوص شاہراہ پر رش بڑھنے کا امکان زیادہ ہوسکتا ہے، جبکہ ہفتے اور اتوار کو اسی سڑک پر ٹریفک نسبتاً کم رہ سکتی ہے۔

گوگل ان تاریخی رجحانات کو موجودہ ٹریفک ڈیٹا کے ساتھ ملا کر اندازہ لگاتا ہے کہ کوئی شخص اپنی منزل کی جانب سفر جاری رکھے تو راستے کے اگلے حصے میں اسے کتنی دیر لگ سکتی ہے۔

گوگل ڈیپ مائنڈ کے مطابق جدید گراف نیورل نیٹ ورکس سمیت مشین لرننگ تکنیکوں سے سڑکوں کے باہمی رابطوں اور ٹریفک کے بدلتے رجحانات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

اطلاع کون دیتا ہے؟

ٹریفک جام کی ہر وجہ صرف گاڑیوں کی کم رفتار نہیں ہوتی۔ بعض اوقات حادثے، خراب گاڑی، سڑک کی مرمت، پانی جمع ہونے یا کسی لین کی بندش کے باعث بھی ٹریفک متاثر ہوتی ہے۔

ایسی صورت حال میں گوگل میپس صارفین کو خود بھی واقعے کی اطلاع دینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ڈرائیور نیویگیشن کے دوران محفوظ طریقے سے حادثے، ٹریفک جام، سڑک پر رکاوٹ یا تعمیراتی کام کی رپورٹ کرسکتے ہیں۔

دوسرے صارفین بھی متعلقہ رپورٹ کی تصدیق کرسکتے ہیں، جس سے دوسرے ڈرائیوروں کو بروقت آگاہی ملتی ہے۔

اس کے علاوہ مقامی حکومتی اداروں اور ٹرانسپورٹ محکموں سے حاصل ہونے والی مستند معلومات بھی ٹریفک کی صورت حال اور راستوں کی پابندیوں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔

ہر فون کی نگرانی ہوتی ہے؟

یہ سوال صارفین کی نجی معلومات کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ عام تاثر کے برعکس یہ کہنا درست نہیں کہ ہر اسمارٹ فون ہر وقت گوگل کو اپنی لوکیشن بھیج رہا ہوتا ہے۔

گوگل کی وضاحت کے مطابق نیویگیشن ڈیٹا کا حصول اس وقت شروع ہوتا ہے جب صارف گوگل میپس پر نیویگیشن شروع کرتا ہے۔ اس دوران جی پی ایس لوکیشن، سفر کا راستہ اور متعلقہ سینسر ڈیٹا استعمال ہوسکتا ہے۔

گوگل کے مطابق نیویگیشن سے حاصل ہونے والا ڈیٹا پراسیس کرکے ٹریفک اور راستوں کی بہتری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ اس ڈیٹا سے بننے والی نقشے کی ٹریفک اپ ڈیٹس کو صارف کے گوگل اکاؤنٹ یا ڈیوائس سے منسلک نہیں کیا جاتا۔

البتہ لوکیشن ہسٹری، ٹائم لائن اور دیگر سرگرمیوں کی معلومات کا حصول صارف کی متعلقہ سیٹنگز اور اجازتوں پر بھی منحصر ہوتا ہے۔ صارف اپنے گوگل اکاؤنٹ میں ان معلومات کو دیکھنے، کنٹرول کرنے اور حذف کرنے کے اختیارات استعمال کرسکتا ہے۔

گوگل میپس ہمیشہ درست معلومات دیتا ہے؟

اگرچہ گوگل میپس کا نظام جدید ٹیکنالوجی اور بڑے پیمانے پر ڈیٹا کے ذریعے ٹریفک کی صورت حال کا اندازہ لگاتا ہے، تاہم اس کی معلومات ہر وقت سو فیصد درست ہونے کی ضمانت نہیں ہوتیں۔

کم رش والی سڑکوں پر دستیاب لائیو ڈیٹا محدود ہوسکتا ہے۔ اچانک ہونے والا حادثہ، عارضی سڑک بندش یا نیٹ ورک کی خرابی بھی نقشے پر ٹریفک کی تازہ ترین صورت حال ظاہر ہونے میں تاخیر کا سبب بن سکتی ہے۔

اسی لیے ڈرائیوروں کو چاہیے کہ وہ گوگل میپس کی رہنمائی سے فائدہ اٹھائیں لیکن سڑک کے اصل حالات، ٹریفک قوانین اور حفاظتی ہدایات کو بھی ہمیشہ ترجیح دیں۔

گوگل میپس کی یہ ٹیکنالوجی دراصل کروڑوں اسمارٹ فونز سے ملنے والے اجتماعی ڈیٹا، مصنوعی ذہانت اور انسانی رپورٹنگ کا امتزاج ہے۔ یعنی جس سڑک سے آپ گزر رہے ہوتے ہیں، وہاں موجود دیگر مسافروں کے موبائل فون بھی بالواسطہ طور پر آپ کے سفر کو آسان بنانے میں کردار ادا کررہے ہوتے ہیں۔