اہم ترین

بڑھاپے میں کانوں کی کمزوری دماغ کو بھی متاثر کرتی ہے : نئی تحقیق کا انکشاف

سائنسدانوں نے بڑھتی عمر میں سماعت کی کمزوری اور دماغی صلاحیتوں کے زوال کے درمیان ایک حیاتیاتی “پل” دریافت کر لیا ہے۔

ای نیچر نامی تحقیقی جرنل میں شائع رپورٹ کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ قوت سماعت مٰں بتدریج کمی کو طبی زبان میں  پریسبیکوسس کہا جاتا ہے۔

 تحقیق کے دوران چین کی تیانگونگ یونیورسٹی اور شاندونگ صوبائی ہسپتال کے ماہرین نے پریسبیکوسس کا شکار 50 سے 74 سال کی عمر کے 55 افراد کا  صحت مند افراد کا موازنہ کیا۔

ماہرین نے غور کیا  کہ سماعت کی کمی کیسے دماغی ڈھانچے اور فعالیت کو متاثر کر کے یادداشت، فیصلہ سازی اور سیکھنے کی صلاحیت کو کمزور کرتی ہے۔

سماعت کے ٹیسٹ اور دماغی صلاحیتوں کے امتحانات کے ذریعے انہوں نے ایک نیا پیمانہ متعارف کرایا جسے فنکشنل اسٹرکچرل ریشو (ایف ایس آر) کہا جاتا ہے۔ یہ ریشو دماغ کے کسی مخصوص حصے میں فعالیت کو گرے میٹر کے حجم سے تقسیم کر کے نکلتا ہے۔

تحقیق کے دوران حیران کن نتائج سامنے  آئے کہ کمزور  سماعت کےحامل لوگوں میں دماغ کے  یادداشت اور فیصلہ سازی میں کردار ادا کرنے والے مخصوص حصؤں میں ایف ایس آر  کی سطح نمایاں طور پر کم تھی۔ یہی کم ایف ایس آر دماغی ٹیسٹوں میں ناقص کارکردگی سے بھی جڑا ہوا تھا۔

محققین کے مطابق یہ پہلی تحقیق ہے جس نے سماعت کی کمی اور علمی زوال کو دماغ کی مشترکہ نیورل ری آرگنائزیشن سے جوڑ کر دیکھا ہے۔

مطالعے کے مصنف ننگ لی کے مطابق سب سے اہم بات یہ ہے کہ سماعت کی صحت کو برقرار رکھنا دماغ کی سالمیت کے لیے ضروری ہے۔ ایف ایس آر مستقبل میں ڈاکٹروں کے لیے ایک بائیومارکر بن سکتا ہے جس سے دماغی سکین دیکھ کر ہی ڈمنشیا کا خطرہ پہچانا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سماعت کی کمی کا بروقت علاج (ہیئرنگ ایڈز یا کوکلیئر امپلانٹس) کیا جائے تو دماغی زوال، سماجی تنہائی اور ڈپریشن کو روکا جا سکتا ہے۔ برطانوی نیورولوجسٹ ڈاکٹر سٹیو الڈر اور امریکی نیوروٹالوجسٹ ڈاکٹر کورٹنی ووکر نے بھی اس تحقیق کی اہمیت کو سراہا اور کہا کہ یہ ابتدائی پتہ لگانے اور علاج کے نئے امکانات کھول سکتی ہے۔

یہ دریافت بوڑھاپے میں سماعت کی دیکھ بھال کو دماغی صحت کے تحفظ کا اہم حصہ قرار دیتی ہے۔ اگر آپ یا آپ کے بزرگوں کو آوازوں (خاص طور پر “چ”، “ف”، “پ” جیسے ہائی فریکوئنسی آوازوں) کو سمجھنے میں دشواری ہو رہی ہے تو فوری طور پر چیک اپ کروائیں ۔یہ صرف کانوں کی نہیں، دماغ کی حفاظت کا معاملہ ہے۔

پاکستان