کراچی کی پورٹ قاسم میں ایک بڑے اسکینڈل نے سر اٹھا لیا جہاں مبینہ جعلی درآمدی دستاویزات پر ایل پی جی سے بھرے ایک بحری جہاز کی آمد کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد ایف آئی اے نے فوری تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پورٹ قاسم پر لنگر انداز “وینس 9” نامی جہاز سوا ارب روپے سے زائد مالیت کی ایل پی جی لے کر عمان سے کراچی پہنچا۔
حیران کن طور پر 16 مارچ کو پہنچنے والے اس جہاز سے گیس کسٹمز حکام کی اجازت سے آف لوڈ بھی کر دی گئی، جس نے معاملے کو مزید مشکوک بنا دیا ہے۔
ایف آئی اے نے جہاز کے کپتان کا بیان ریکارڈ کر لیا ہے اور تمام متعلقہ ریکارڈ اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔
ابتدائی دستاویزات کے مطابق 3 ہزار 267 میٹرک ٹن ایل پی جی “میسرز ساحل گیس کمپنی” نے درآمد کی، تاہم اب اس بات کی چھان بین جاری ہے کہ گیس کی اصل لوڈنگ کہاں سے کی گئی۔
دوسری جانب کسٹمز حکام کے کردار پر بھی سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایف آئی اے اس بات کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ مبینہ جعلی دستاویزات کے باوجود ایل پی جی کو کس بنیاد پر کلیئر کر کے آف لوڈ کرنے کی اجازت دی گئی۔
حکام نے تحقیقات مکمل ہونے تک جہاز کو بندرگاہ چھوڑنے سے روک دیا ہے اور اس حوالے سے باقاعدہ ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔
یہ معاملہ نہ صرف مالی بدعنوانی بلکہ قومی سلامتی کے پہلوؤں کو بھی چھو رہا ہے، جس کے باعث آئندہ دنوں میں مزید بڑے انکشافات سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔









