اہم ترین

آبنائے ہرمز کھولنے کے لئے ٹرمپ کا ایران کو الٹی میٹم، پاور پلانٹس تباہ کرنے کی دھمکی

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحری آمد و رفت کے لیے نہ کھولا گیا تو ایران کے بڑے پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جائے گا۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں واضح کیا کہ امریکہ آزادیِ جہاز رانی پر کسی قسم کی پابندی برداشت نہیں کرے گا، اور اگر ایران نے راستہ نہ کھولا تو “سب سے بڑے پاور پلانٹ سے کارروائی کا آغاز کیا جائے گا”۔

دوسری جانب ایران نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے توانائی کے ڈھانچے پر حملہ کیا گیا تو خطے میں موجود تمام امریکی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز اس وقت صرف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے بند ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ اپنے چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، اور خطے میں صورتحال مسلسل کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔

آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے، اس کشیدگی کے باعث تقریباً بند ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور اسٹاک مارکیٹس میں شدید مندی دیکھی جا رہی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کا کہنا ہے کہ حالیہ فضائی حملوں میں ایران کی بحری حملہ آور صلاحیت کو “بڑی حد تک تباہ” کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق امریکی طیاروں نے ایران کے ساحلی علاقوں میں میزائل ذخائر اور نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا۔

دوسری طرف مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی بیانات اور زمینی حقائق میں تضاد پایا جاتا ہے، ایک طرف امریکہ اپنی کامیابیوں کا دعویٰ کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب صدر ٹرمپ کی جانب سے مزید بڑی کارروائی کی دھمکی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ کشیدگی مزید بڑھی تو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو توانائی بحران اور معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

پاکستان