چین کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی بائیٹ ڈانس نے اپنا جدید اے آئی ویڈیو جنریٹر سی ڈانس 2.0 خاموشی سے دنیا کے مختلف خطوں میں متعارف کرا دیا ہے۔
یہ نیا ماڈل صارفین کو صرف تحریری ہدایات یا تصاویر کی مدد سے ہالی ووڈ معیار کی ویڈیوز بنانے کی صلاحیت دیتا ہے، جس نے تفریحی صنعت میں ہلچل مچا دی ہے۔
یہ فیچر فی الحال کیپ کٹ میں محدود پیمانے پر متعارف کروایا گیا ہے اور ابتدائی طور پر صرف کچھ پیڈ صارفین کو دستیاب ہوگا۔
کمپنی کے مطابق اس میں حفاظتی اقدامات شامل کیے گئے ہیں تاکہ کسی کی شناخت یا کاپی رائٹ مواد کا غیر قانونی استعمال روکا جا سکے۔
تاہم، بڑے ہالی ووڈ اسٹوڈیوز جیسے ڈزنی، وارنر برادرز اور نیٹ فلیکس نے کاپی رائٹ خلاف ورزی کے خدشات پر بائیٹ ڈانس کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
دوسری جانب امریکی کمپنی اوپن اے نے اپنی ویڈیو بنانے والی سروس سورا بند کرنے کا اعلان کیا ہے، جسے اے آئی انڈسٹری میں بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دنیا میں اے آئی ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور اب اس کا رخ ایسے ٹولز کی طرف ہو رہا ہے جو عملی زندگی کے کام خود انجام دے سکیں۔










