اہم ترین

اے آئی کا نیا گندا کھیل: معذور خواتین کی جعلی اور متنازع تصاویر وائرل کی جانے لگیں

برطانیہ میں فلاحی اداروں اور معذور افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے معذور خواتین کی جنسی نوعیت کی تصاویر بنانے کے بڑھتے رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خصوصاً ٹک ٹاک اور انسٹا گرام پر ایسی تصاویر اور ویڈیوز لاکھوں ویوز حاصل کر رہی ہیں، جن میں ڈاون سینڈروم ، ویٹیلیگو اور البینزم کا شکار خواتین کر جعلی طریقوں سے جنسی انداز میں دکھایا جاتا ہے۔

ڈاؤن سینڈروم ایسوسی ایشن نے اس رجحان کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ اس سے متاثرہ افراد کے لیے تکلیف دہ بھی ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بعض اکاؤنٹس اصل تصاویر کو اے آئی کے ذریعے تبدیل کر کے خواتین کو معذوری کے ساتھ پیش کرتے ہیں، جس سے حقیقت اور جعل سازی کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ڈس ایبیلیٹی رائٹس یو کے نے اسے کھلا استحصال قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمل ماضی کے فریک شوز کی یاد دلاتا ہے، جہاں معذور افراد کو محض تفریح کے لیے پیش کیا جاتا تھا۔

تحقیق کاروں کے مطابق ایسی تصاویر نہ صرف غیر حقیقی ہوتی ہیں بلکہ اکثر طبی لحاظ سے بھی غلط ہوتی ہیں، جس سے غلط معلومات پھیلتی ہیں۔

ویٹی لیگو سوسائٹی نے خبردار کیا کہ اے آئی کے ذریعے فرضی کرداروں کو حقیقی مریضوں کے طور پر پیش کرنا گمراہ کن ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان سوشل میڈیا پر زیادہ توجہ اور منافع حاصل کرنے کے لیے فروغ پا رہا ہے، جبکہ متاثرہ کمیونٹیز کے لیے یہ رویہ نقصان دہ اور ناقابل قبول ہے۔

پاکستان