امریکا کی جانب سے اسرائیل کو اسلحے کی فروخت اور ایران کے خلاف جنگی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے تقریباً 100 مظاہرین کو نیویارک پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔
امریکی نیوز ایجنسی اے پیکےمطاق نیویارک کے مین ہٹن میں ہونے والے اس بڑے احتجاج کے دوران مظاہرین نے سڑکیں بلاک کر دیں جس سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا۔
سیکڑوں مظاہرین نے سینیٹ کے ڈیموکریٹک لیڈر چک شومر اور سینیٹر کرسٹن گلی برانڈ کے دفاتر میں داخل ہو کر دھرنا دینے کی کوشش کی۔
مظاہرین کا الزام تھا کہ یہ سینیٹرز لبنان پر اسرائیلی حملوں اور ایران کے خلاف امریکا اسرائیل جنگ میں معاونت کر رہے ہیں۔
سیکیورٹی حکام کی جانب سے عمارت میں داخلے سے روکے جانے پر مظاہرین نے باہر سڑک پر بیٹھ کر بموں پر نہیں، لوگوں پر سرمایہ کاری کرو کے نعرے لگائے، جس کے بعد پولیس نے انہیں گرفتار کر کے بسوں میں منتقل کر دیا۔
مظاہرے کی قیادت کرنے والی تنظیم جیوش وائس فار پیس کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد میں مشہور وِسل بلور چیلسی میننگ، اداکارہ ہری نیف اور نیویارک سٹی کونسل کی رکن الیکسا ایویلس بھی شامل ہیں۔


