چین نے مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے 4 نکاتی فارمولہ بتادیا

میں چین کے صدر شی جن پنگ نے مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے ایک چار نکاتی جامع تجویز پیش کی ہے۔ یہ تجویز انہوں نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کے دوران پیش کی، جس میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سیکیورٹی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

جرمن ویب سائیٹ ڈی ڈبلیو کے مطابق چینی صدر نے زور دیا کہ خطے میں امن کے لیے پرامن بقائے باہمی کے اصول کو اپنایا جائے اور ایک ایسا مشترکہ، جامع، باہمی تعاون پر مبنی اور پائیدار سکیورٹی نظام تشکیل دیا جائے جو تمام ممالک کے مفادات کو تحفظ دے۔

انہوں نے کہا کہ تمام ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام ضروری ہے جبکہ بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ناگزیر ہے تاکہ دنیا طاقت کے بجائے قانون کے اصولوں کے تحت آگے بڑھے۔

شی جن پنگ نے مزید کہا کہ ترقی اور سلامتی کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا اور خطے میں ایسے حالات پیدا کرنا ہوں گے جن سے معاشی ترقی اور استحکام کو فروغ ملے۔

چینی سرکاری میڈیا کے مطابق بیجنگ نے ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امن مذاکرات کی حمایت جاری رکھے گا اور تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے بعد خطے میں صورتحال حساس بنی ہوئی ہے، اور مختلف فریقین کی جانب سے جنگ بندی اور مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں۔