آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دنیا بھر میں خاص طور پر غریب اور توانائی درآمد کرنے والے ممالک کو شدید انسانی اور معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ کی رپورٹ کےمطابق ایران امریکا جنگ کے باعث خطے سے ایندھن کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے۔ جس کی وجہ سے تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کا اثر خوراک اور کھاد مہنگا ہونے اور ٹرانسپورٹ اخراجات بڑھنے کی صورت میں پڑ رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ ایندھن کی ضروریات درآمدات سے پوری کرنے والےممالک کے لئے حالات زیادہ خراب ہو سکتے ہیں۔
آئی ایم ایف کے مطابق موجودہ صورت حال میں مشرقی ایشیا اور سب صحارا افریقا سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ افریقا میں تقریباً 2 کروڑ افراد بھوک کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ غریب ممالک میں پہلے ہی مہنگائی کا دباؤ بڑھ چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی امداد میں کمی ہو رہی ہے، غریب ممالک کے لیے بجٹ چلانا مشکل ہو رہا ہے، صحت اور خوراک جیسے بنیادی شعبے متاثر ہو رہے ہیں۔ عالمی مارکیٹس میں سود کی شرح بڑھ رہی ہے، قرض لینا مہنگا ہو گیا ہے اور معیشتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
ایران کی جنگ اب صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہی بلکہ ایک عالمی انسانی اور معاشی بحران میں تبدیل ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، جس کے اثرات سب سے زیادہ کمزور ممالک پر پڑیں گے۔


