ہانگ کانگ سے سامنے آنے والے ایک حیران کن واقعے میں چینی ماڈل اور انفلوئنسر کرسٹین لی نے الزام عائد کیا ہے کہ ایک اے آئی سے تیار کیے گئے میکرو ڈرامے نے ان کی تصویر اور چہرے کو بغیر اجازت استعمال کیا۔
یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب وہ آن لائن سیریز “دی پیچ بلوسم ہیئر پن” میں خود کو ایک منفی کردار میں دیکھ کر حیران رہ گئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کردار میں نہ صرف ان کی شکل استعمال کی گئی بلکہ انہیں ظالم اور جارحانہ انداز میں دکھایا گیا، جو ان کی حقیقی شخصیت سے بالکل مختلف ہے۔
کریسٹین لی نے بتایا کہ وہ پہلے حیران ہوئیں، پھر غصے اور خوف کا شکار ہو گئیں۔ ان کے مطابق ڈرامے میں استعمال ہونے والی تصویر غالباً ان کی سوشل میڈیا پوسٹس سے لی گئی تھی، جو انہوں نے دو سال قبل شیئر کی تھیں۔
یہ سیریز ایک چینی مائیکرو ڈرامہ پلیٹ فارم پر نشر کی گئی، جو بائیٹ ڈانسکی ملکیت ہے۔ پلیٹ فارم پر ہزاروں چھوٹے دورانیے کے ڈرامے موجود ہیں جن میں اے آئی سے بنائے گئے مواد کی تعداد بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
کریسٹین لی کے ساتھ ایک اور شخص، جو روایتی چینی لباس اور میک اپ کا ماہر ہے، نے بھی الزام لگایا کہ ان کی شناخت کو غلط اور منفی انداز میں استعمال کیا گیا۔
ان دونوں کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے ان کے کیریئر اور مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ وہ اب تنازعات سے جڑے ہوئے سمجھے جائیں گے۔
ادھر پلیٹ فارم نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے متنازعہ سیریز کو ہٹا دیا ہے اور اب تک درجنوں ایسے اے آئی ڈراموں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے جو قواعد کی خلاف ورزی کرتے پائے گئے۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ اے آئی ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ایک بڑا قانونی اور اخلاقی مسئلہ بن کر سامنے آ رہا ہے، جہاں کسی بھی شخص کی اجازت کے بغیر اس کی شناخت استعمال کرنا مستقبل میں سنگین تنازعات کو جنم دے سکتا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ متاثرہ افراد قانونی کارروائی کر سکتے ہیں، لیکن عام طور پر ایسے کیسز میں مالی ہرجانہ محدود ہوتا ہے، جس سے تحفظ کے نظام پر مزید سوالات اٹھتے ہیں۔











