صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اسرائیل اور لبنان کے سفیروں کے درمیان ہونے والے کامیاب مذاکرات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی میں مزید 3 ہفتوں کی توسیع کا اعلان کر دیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں صدر ٹرمپ نے ملاقات کو انتہائی سودمند قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حزب اللہ کے خلاف لبنان کی مدد کرے گا۔
امریکی صدر نے صحافیوں سے گفتگو میں امید ظاہر کی کہ رواں برس اسرائیل اور لبنان کے درمیان ایک تاریخی امن معاہدہ طے پا سکتا ہے، جس کے لیے وہ جلد ہی اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون کے درمیان ملاقات کی توقع کر رہے ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس پیش رفت کو تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک امن کے خواہاں ہیں اور حزب اللہ کے مظالم سے نجات چاہتے ہیں۔
مذاکرات کے اس دوسرے دور میں اسرائیلی سفیر یحیئیل لایٹر اور لبنانی سفیرہ ندی معوض نے شرکت کی، جہاں لبنانی سفیرہ نے امریکی تعاون کو سراہتے ہوئے لبنان کی بحالی کے لیے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔
واضح رہے کہ 1948 سے حالتِ جنگ میں موجود ان دونوں ممالک کے درمیان 1993 کے بعد یہ پہلی براہِ راست مذاکراتی کوشش ہے جو 14 اپریل کو واشنگٹن میں شروع ہوئی۔
اگرچہ حزب اللہ نے ان مذاکرات پر تنقید کرتے ہوئے لبنانی حکومت پر سمجھوتے کا الزام لگایا ہے، تاہم لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے جنگ و امن کا فیصلہ کرنا صرف ریاست کا اختیار ہے۔
امریکی وزارتِ خارجہ کے مطابق معاہدے کے تحت اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل رہے گا جبکہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔











