امریکا کی خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ اور ہالی ووڈ کے مشہور کامیڈین جمی کمیل کے درمیان لفظی جنگ اس وقت شدت اختیار کر گئی جب میلانیا نے کمیل کے ایک حالیہ مذاق کو انتہائی گھٹیا اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے ٹی وی نیٹ ورک سے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر دیا۔
گزشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس کرسپونڈنٹس ڈنر کے حوالے سے اپنے ایک پروگرام میں جمی کمیل نے میلانیا ٹرمپ کی موجودگی کا تصور کرتے ہوئے ان پر طنز کیا تھا ک مسز ٹرمپ، آپ کے چہرے پر ایک ایسی چمک ہے جیسے کوئی عورت بیوہ ہونے کی امید لگائے بیٹھی ہو۔
یہ تبصرہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عمر (80 سال) اور ان کی اہلیہ (56 سال) کے درمیان عمر کے فرق کو نشانہ بنا کر کیا گیا تھا۔
خاتونِ اول نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمی کمیل کے الفاظ کامیڈی نہیں بلکہ زہر ہیں۔
انہوں نے لکھاکہ میرے خاندان کے بارے میں کمیل کا یہ تبصرہ مزاح نہیں بلکہ ایک ایسی غلاظت ہے جو امریکہ کے اندر سیاسی بیماری کو مزید گہرا کر رہی ہے۔”
“کمیل بزدل ہیں جو اے بی سی (ABC) نیٹ ورک کے پیچھے چھپتے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ادارہ ان کی پردہ پوشی کرے گا۔”
انہوں نے نیٹ ورک کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ اب بہت ہو چکا۔ اے بی سی کی قیادت کب تک جمی کمیل کے شرمناک رویے کی سرپرستی کرتی رہے گی؟
یہ تنازع ایک ایسے وقت میں کھڑا ہوا ہے جب گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں ایک مسلح شخص نے میڈیا گالا ڈنر پر حملے کی کوشش کی تھی، جس کا نشانہ مبینہ طور پر صدر ٹرمپ اور دیگر اعلیٰ حکام تھے۔ اس واقعے کے بعد دائیں بازو کے حلقوں کا کہنا ہے کہ کامیڈینز اور مخالف سیاستدانوں کی جانب سے اس طرح کے بیانات انتہا پسندی کو ہوا دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ جمی کمیل کو گزشتہ سال ستمبر میں بھی اس وقت معطلی کا سامنا کرنا پڑا تھا جب انہوں نے میگا (میک امریکا گریٹ اگین) تحریک کے حوالے سے متنازع بیان دیا تھا۔ فی الحال اے بی سی نیٹ ورک یا جمی کمیل کی جانب سے میلانیا ٹرمپ کے تازہ ترین مطالبے پر کوئی باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا ہے۔


