اے آئی کمپنی کوہیر کا واضح راستہ: اے جی آئی سے ڈراؤ نہیں منافع کماؤ

کوہیر نامی کینیڈین مصنوعی ذہانت کمپنی نے عالمی اے آئی صنعت میں جاری ہنگامہ آرائی، بڑے دعوؤں اور دنیا بدل دینے کے نعروں سے ہٹ کر ایک مختلف حکمتِ عملی اختیار کرلی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کی اصل ترجیح مصنوعی ذہانت کے ذریعے حقیقی کاروباری منافع حاصل کرنا ہے، نہ کہ سپر انٹیلیجنٹ مشینوں کے خواب بیچنا۔

کمپنی کی چیف اے آئی آفیسر جوئیل پینو نے اے ایف پی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ کوہیر غیر ضروری تنازعات اور خوف پھیلانے والی بحثوں سے دور رہتی ہے۔ کمپنی مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیوں کے بجائے عملی کاروباری مسائل کے حل پر توجہ دے رہی ہے۔

کوہیر کی بنیاد 2019 میں ٹورنٹو میں رکھی گئی تھی۔ اس کے شریک بانی ایڈن گومیز اُن محققین میں شامل ہیں جنہوں نے جدید اے آئی سسٹمز کی بنیاد سمجھے جانے والے تحقیقی مقالے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ کمپنی اس وقت خود کو امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے متبادل کے طور پر عالمی سطح پر منوانے کی کوشش کررہی ہے۔

جوئیل پینو اس سے قبل تقریباً آٹھ برس تک میٹا کی فنڈامینٹل اے آئی ریسرچ لیب کی سربراہ رہ چکی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ کمپنی اے جی آئی (آرٹیفیشل جنرل انٹیلی جنس ) جیسے موضوعات پر زیادہ وقت ضائع نہیں کرتی۔ اصل سوال یہ نہیں کہ اے آئی انسانوں سے زیادہ ذہین کب ہوگی، بلکہ یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے حقیقی مالی فوائد کب حاصل ہوں گے۔

اسی سوچ کے تحت کمپنی نے روئی اور ایجی کا نعرہ اپنایا ہے، یعنی مصنوعی ذہانت کے خیالی تصورات کے بجائے سرمایہ کاری پر منافع کو ترجیح دی جارہی ہے۔

جوئیل پینو نے کہا کہ اے آئی کے بارے میں غیر حقیقی خوف پیدا کرنے کے بجائے حقیقی مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق روزگار پر اثرات، ڈیٹا پرائیویسی اور سائبر سکیورٹی وہ حقیقی چیلنجز ہیں جن سے کاروباری ادارے، اسپتال اور حکومتی ادارے دوچار ہیں۔

انہوں نے چینی اے آئی ماڈلز سے متعلق بڑھتی ہوئی تشویش پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی خطرات صرف کسی ایک ملک تک محدود نہیں۔ ان کے مطابق اگر کوئی ڈویلپر نقصان دہ کوڈ شامل کرنا چاہے تو یہ خطرہ کسی بھی ملک سے ہوسکتا ہے، اس لیے مضبوط حفاظتی نظام ہر صورت ضروری ہیں۔

کمپنی نے حال ہی میں جرمن اے آئی فرم ایلف الفا کے حصول کا اعلان بھی کیا ہے، جس کے بعد مشترکہ ادارے کی مالیت تقریباً 20 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ اس معاہدے کو کینیڈا اور جرمنی دونوں حکومتوں کی حمایت حاصل ہے اور اس کا مقصد یورپ اور ایشیا میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے متبادل کے طور پر خود کو پیش کرنا ہے۔

جوئیل پینو کے مطابق موجودہ جغرافیائی سیاسی حالات میں کئی ممالک امریکی ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز پر مکمل انحصار سے ہچکچا رہے ہیں، اور کوہیر اس خلا کو پُر کرنے کے لیے تیار ہے۔

اگرچہ کمپنی کا عالمی ہیڈکوارٹر ٹورنٹو میں ہی رہے گا، تاہم اس کے دفاتر سان فرانسسکو، نیویارک، لندن اور پیرس سمیت کئی بین الاقوامی شہروں میں موجود ہیں، جبکہ جرمنی میں اس کی موجودگی مزید مضبوط ہورہی ہے۔

پینو نے کہا کہ اگر کوہیر بھی دیگر کمپنیوں کی طرح اے آئی کے خوفناک مستقبل کے بیانیے اپنائے تو شاید اسے زیادہ شہرت ملے، تاہم فی الحال کمپنی سنجیدہ اور عملی راستہ اختیار کیے ہوئے ہے۔