پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر نے بھارتی آرمی چیف اوپیندرا دویدی کے حالیہ بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک تسلیم شدہ ایٹمی طاقت اور جنوبی ایشیا کے جغرافیے و تاریخ کا ناقابلِ تردید حصہ ہے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہندوتوا نظریے کے زیرِ اثر بھارتی قیادت بے بنیاد مفروضوں، مسلسل بدخواہی اور جارحانہ سوچ کا شکار ہے، جبکہ پاکستان عالمی سطح پر ایک اہم اور ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنی شناخت رکھتا ہے۔
بیان کے مطابق بھارتی آرمی چیف کا یہ کہنا کہ پاکستان کو فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ جغرافیے اور تاریخ کا حصہ بننا چاہتا ہے یا نہیں، اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارتی قیادت آج تک پاکستان کے قیام کی حقیقت کو قبول نہیں کر سکی۔
ترجمان کے مطابق یہی متکبرانہ اور تنگ نظر سوچ جنوبی ایشیا کو ماضی میں کئی جنگوں اور بحرانوں کی طرف دھکیلتی رہی ہے۔
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا کہ کسی خودمختار ریاست کو ’جغرافیے سے مٹانے‘ کی دھمکیاں دینا نہ تو ذمہ دارانہ سفارت کاری ہے اور نہ ہی اسٹریٹیجک سوچ، بلکہ یہ انتہا پسندانہ ذہنیت اور جنگی جنون کی عکاسی کرتا ہے۔ بیان میں زور دیا گیا کہ ذمہ دار ایٹمی ریاستیں تحمل، بردباری اور دانشمندی کا مظاہرہ کرتی ہیں، نہ کہ تہذیبی برتری اور تباہی کی زبان استعمال کرتی ہیں۔
فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے مزید کہا کہ بھارت اپنے اس تاریخی ریکارڈ کو نظر انداز کر رہا ہے جس میں اسے خطے میں عدم استحکام، سرحد پار کارروائیوں اور غلط معلومات پھیلانے کے الزامات کا سامنا رہا ہے۔
بیان میں خبردار کیا گیا کہ نئی دہلی کی جارحانہ پالیسی دراصل اس مایوسی کی عکاس ہے جو پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں ناکامی کے بعد سامنے آئی۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر بھارت نے جنوبی ایشیا کو دوبارہ کسی بحران کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی تو اس کے نتائج پورے خطے کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
ترجمان کے مطابق بھارت کو پاکستان کی علاقائی اہمیت تسلیم کرتے ہوئے پرامن بقائے باہمی کا راستہ اپنانا ہوگا، کیونکہ پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت کے نتائج صرف جغرافیائی حدود تک محدود نہیں رہیں گے۔


