اب بھی نہ مانے تو کچھ نہیں بچے گا!ٹرمپ کی ایران کو دھمکی

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر امن معاہدے کی طرف بڑھے، ورنہ ان کے پاس کچھ نہیں بچے گا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے، انہیں فوری قدم اٹھانا ہوگا، ورنہ کچھ باقی نہیں بچے گا۔

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب 28 فروری سے امریکی اور اسرائیلی حملوں نے خطے میں نئی جنگ چھیڑ دی۔ اس تنازع نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو ہلا کر رکھ دیا ہے جبکہ عالمی تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔جنگ کے باعث آبنائے ہرمز عملاً متاثر ہو چکی ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس صورتحال نے عالمی معیشت اور توانائی مارکیٹوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان اپریل میں جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، مگر امن مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق امریکا نے حالیہ مذاکرات میں کوئی واضح لچک نہیں دکھائی۔

رپورٹس کے مطابق واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران صرف ایک جوہری مرکز فعال رکھے اور افزودہ یورینیم کا ذخیرہ امریکا کے حوالے کرے۔

ایران کا مؤقف ہے کہ امریکا جنگ کے دوران حاصل نہ کیے جا سکنے والے مطالبات مذاکرات کے ذریعے منوانا چاہتا ہے۔

پاکستان بھی ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے ملاقات کی۔

باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جنگ نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ نے بھی حالیہ ملاقات میں ایران کی صورتحال پر بات چیت کی، تاہم اب تک کسی بڑی پیش رفت کے آثار سامنے نہیں آئے۔