امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان منگل کو قطر کے دارالحکومت دوحا میں ایک اہم ملاقات ہوگی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ فوجی کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے برقرار ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ ایران نے ملاقات کی درخواست کی ہے اور یہ ملاقات منگل کو دوحہ میں منعقد ہوگی۔
تاہم ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے اس سے قبل کہا تھا کہ اس ہفتے امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت سے متعلق تکنیکی مذاکرات طے نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قطر کے ساتھ مشاورت معمول کے مطابق جاری ہے، لیکن بعض میڈیا رپورٹس میں جس تکنیکی اجلاس کا ذکر کیا جا رہا ہے، اس کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔
دونوں ممالک کے بیانات میں بظاہر تضاد نظر آتا ہے، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایرانی بیان کے بعد مذاکرات پر کوئی پیش رفت ہوئی ہو، اگرچہ ایران نے تاحال باضابطہ طور پر ملاقات کی تصدیق نہیں کی۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ کے مطابق امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر دوحہ میں امریکی وفد کی قیادت کریں گے۔ ان کے مطابق اعلیٰ سطحی مذاکرات کے ساتھ تکنیکی سطح کے مذاکرات بھی ہوں گے تاکہ مفاہمتی یادداشت پر پیش رفت کو آگے بڑھایا جا سکے۔
امریکا اور ایران نے رواں ماہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدہ کیا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام سمیت اہم تنازعات پر 60 روزہ مذاکراتی عمل شروع ہوا۔ تاہم لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں اور آبنائے ہرمز سے متعلق تنازع نے اس عمل کو پیچیدہ بنا دیا۔
ایران آبنائے ہرمز میں بحری گزرگاہوں پر اپنے مؤقف پر قائم ہے، جبکہ امریکا نے اس علاقے میں ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، جس کے جواب میں ایران نے بحرین اور کویت میں امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے۔
اس تمام کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکا جنگ بندی کی پاسداری کر رہا ہے، تاہم اگر ایران نے تجارتی جہازوں یا امریکی مفادات کو نشانہ بنایا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔
ادھر صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم ہونے اور ایران پر بعض امریکی پابندیوں میں نرمی کے بعد تیل اور پٹرول کی قیمتوں میں کمی کو بھی اپنی حکومت کی کامیابی قرار دیا۔ ان کے مطابق امریکا میں پٹرول کی اوسط قیمت مئی میں 4.56 ڈالر فی گیلن سے کم ہو کر 3.86 ڈالر فی گیلن رہ گئی ہے۔











