اہم ترین

امریکی حملے جاری: ایران کا مکمل جنگ کا اعلان

ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکا کے خلاف “مکمل جنگ” لڑ رہا ہے اور ایرانی قوم کو اس مزاحمت کے قدرتی نتائج قبول کرنے ہوں گے، جبکہ امریکا نے ایران کے مختلف علاقوں پر حملوں کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔

امریکی میڈیا اور ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق امریکا نے پیر کو ایران کے مختلف صوبوں، خصوصاً بوشہر کے گرد و نواح میں حملے کیے، جہاں ایران کا اہم جوہری بجلی گھر بھی واقع ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق تازہ امریکی حملوں میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب ایران نے بھی اپنی جوابی کارروائیوں کا دائرہ بڑھاتے ہوئے خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا۔ بحرین کے سول ایوی ایشن حکام کا کہنا ہے کہ ایران نے ڈرونز کے ذریعے فضائی نیوی گیشن سسٹم کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم فضائی آمدورفت معمول کے مطابق جاری رہی۔ ادھر کویت نے بھی ایرانی حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

اس دوران ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے خلاف سمندری ناکہ بندی کا اعلان کر دیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ شدید کشیدگی کے باوجود امریکا کے ساتھ ثالث ممالک کے ذریعے سفارتی رابطے جاری ہیں اور مختلف تجاویز پر تبادلۂ خیال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران آبنائے ہرمز کو اپنی قومی سلامتی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا، جبکہ اقوام متحدہ کے جوہری ادارے سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کی مذمت کرے۔

ادھر امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو عالمی دباؤ کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے، اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی بحری راستوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران پر تازہ حملے حالیہ دنوں میں مارے جانے والے امریکی فوجیوں کی یاد میں کیے گئے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 17 امریکی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب سفارتی محاذ پر بھی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی پیر کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ اگرچہ دونوں ممالک نے مذاکرات کی تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم مبصرین کے مطابق یہ ملاقات امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں کا حصہ ہو سکتی ہے۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بھی شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہیں۔ برینٹ خام تیل کی قیمت ایک ماہ کی بلند ترین سطح 91 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے بعد مذاکرات کی امید پر دوبارہ نیچے آ گئی۔

پاکستان