اہم ترین

ن لیگ والے مشکل میں ہیں وہ کشمیریوں کے پیر بھی پکڑیں گے: بلاول

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کسی اور نے نہیں بلکہ صرف کشمیری عوام نے کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاجرین کی نمائندگی اپنی جگہ ایک آئینی اور جمہوری حق ہے، تاہم آزاد کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کی رائے سے ہی ہوگا۔

میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نہ پنجاب، نہ سندھ اور نہ ہی کوئی اور صوبہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا، بلکہ یہ اختیار صرف کشمیری عوام کے پاس ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ 27 جولائی کو تیر کے نشان پر مہر لگا کر پاکستان پیپلز پارٹی کو کامیاب بنائیں تاکہ حقِ حاکمیت، حقِ ملکیت اور حقِ روزگار کے وعدے کو عملی شکل دی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو متفقہ آئین دیا، شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے جمہوریت کی بحالی کے لیے تاریخی جدوجہد کی، جبکہ صدر آصف علی زرداری نے اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کے حقوق کو آئینی تحفظ فراہم کیا۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ اسی جدوجہد کا اگلا مرحلہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مل کر مکمل کیا جائے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی جماعت کا عزم ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کو بااختیار بنایا جائے، انہیں روزگار، وسائل پر اختیار اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ ایک خوشحال اور ترقی یافتہ آزاد کشمیر کی بنیاد رکھی جا سکے۔

بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں مسلم لیگ (ن) کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے وزیر دفاع کے متنازع بیان کی مذمت نہیں کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے وزیر کے مؤقف کی حمایت کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہر انتخاب سے قبل مسلم لیگ (ن) بڑے بڑے دعوے کرتی ہے، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد عوام کے مسائل حل نہیں کرتی۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ جو لوگ قصور کو لاہور نہیں بنا سکے، وہ گلگت بلتستان یا آزاد کشمیر کو ترقی نہیں دے سکتے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ن لیگ عوام کو حقوق دینے کے بجائے ان کے حقوق سلب کرتی ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران ن لیگ کے رہنما عوام سے ووٹ مانگنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، لیکن انتخابات کے بعد عوام کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر ووٹروں سے اپیل کی کہ 27 جولائی کو تیر کے نشان پر مہر لگا کر ایک بااختیار، ترقی یافتہ اور خوشحال آزاد کشمیر کے قیام میں پیپلز پارٹی کا ساتھ دیں۔

پاکستان