ایران نےاعتراف کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملک کو توانائی کے شعبے میں بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں گیس کی پیداوار کی صلاحیت تقریباً 230 ملین مکعب میٹر کم ہو گئی۔
ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ جنگ کے دوران توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، جس سے گیس پیداوار متاثر ہوئی۔ ایران اس سے قبل امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہونے والے نقصانات کے ازالے کا مطالبہ بھی کر چکا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق ابتدائی اندازوں میں جنگ کے آغاز سے ملک کو براہ راست اور بالواسطہ طور پر تقریباً 270 ارب ڈالر کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ حالیہ امریکی حملوں میں عوامی انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ نجی املاک کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔ ان کے مطابق ماہی گیروں کی روزی کا واحد ذریعہ کئی کشتیاں تباہ ہوئیں جبکہ سیاحت سے وابستہ کاروبار بھی متاثر ہوئے۔
ایرانی حکومت کی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں میں 12 پلوں اور 2 سرنگوں کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جنوب مغربی ایران کا ایک ہوائی اڈہ حالیہ حملوں کے بعد مکمل طور پر ناکارہ ہو گیا ہے اور اسے ازسرنو تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ایک جدید طیارہ، جو عوامی خدمات کے لیے خریدا گیا تھا، میزائل حملے میں تباہ ہو گیا۔
مہاجرانی نے کہا کہ بوشہر کا محکمہ موسمیات مرکز، جو مکمل طور پر سول نوعیت کا ادارہ تھا، بھی شدید متاثر ہوا اور تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔
واضح رہے کہ کشیدگی میں اضافے کے دوران امریکا نے ایران کو نشانہ بنایا، جبکہ تہران نے جواب میں خطے کے بعض ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات اور سازوسامان کو ہدف بنانے کا دعویٰ کیا۔











