شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں اسلحے اور جنگی باقیات کے عارضی ذخیرے میں ہونے والے زوردار دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد جاں بحق جبکہ 11 زخمی ہوگئے۔
ادلب کے محکمہ صحت کے مطابق دھماکا شہر سرمدا کے قریب اس مقام پر ہوا جہاں اسلحہ اور جنگ سے باقی رہ جانے والے خطرناک مواد کو عارضی طور پر جمع کیا جا رہا تھا۔ حکام نے ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کو ابتدائی قرار دیتے ہوئے مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
تاحال دھماکے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔ مقامی حکام کی جانب سے واقعے کی نوعیت اور دھماکے میں موجود مواد کی تفصیلات بھی سامنے نہیں آئی ہیں۔
یہ واقعہ ادلب میں رواں ماہ پیش آنے والا دوسرا ہلاکت خیز دھماکا ہے۔ اس سے قبل شہر بنّش میں گولہ بارود لے جانے والی ایک گاڑی میں دھماکا ہوا تھا، جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
شام میں طویل جنگ کے باعث مختلف علاقوں میں اسلحہ، گولہ بارود اور جنگی باقیات کی بڑی مقدار موجود ہے، جس کے باعث ایسے مواد کو ذخیرہ کرنے یا منتقل کرنے کے دوران حادثات کا خطرہ بدستور موجود رہتا ہے۔
ادلب طویل عرصے سے شام کی خانہ جنگی اور مختلف مسلح گروہوں کے درمیان لڑائی کا اہم مرکز رہا ہے۔ جنگ کے دوران یہاں بڑی تعداد میں اسلحہ اور دھماکا خیز مواد مختلف مقامات پر جمع ہوا، جبکہ شہری آبادی بھی ان علاقوں کے قریب آباد ہے۔



