پنجاب حکومت کی جانب سے کرپشن کے خلاف جاری ’’فیصلہ کن جنگ‘‘ میں اب تک زیادہ تر کارروائیاں نچلے درجے کے ملازمین، کلرکوں، نائب قاصدوں، کمپیوٹر آپریٹرز، منشیوں، چوکیداروں اور مبینہ فرنٹ مینوں کے خلاف سامنے آئی ہیں، تاہم بڑے مالی اسکینڈلز، اعلیٰ افسران کے خلاف کارروائی اور قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی ریکوری سے متعلق واضح تفصیلات تاحال منظرعام پر نہیں آسکیں۔
جرمن نیوز ویب سائیٹ ڈی ڈبلیو میں شائع رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پنجاب کے مختلف اضلاع میں رشوت اور مبینہ بدعنوانی کے الزامات پر متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں کلرک، ایکسائز اہلکار، کمپیوٹر آپریٹر، نائب قاصد، ریڈر، سینیئر کلرک، سیکرٹری یونین کونسل، فیلڈ افسر، پٹواریوں کے مبینہ فرنٹ مین اور دیگر نچلے درجے کے اہلکار شامل ہیں۔
مہم کے دوران لاہور سمیت مختلف شہروں میں رشوت لینے یا دینے کی کوشش کے الزامات پر بھی مقدمات درج کیے گئے۔ بہاولپور کے وکٹوریہ ہسپتال میں پارکنگ فیس کی مبینہ اوورچارجنگ پر ٹھیکیدار کے خلاف کارروائی ہوئی، جبکہ چیچہ وطنی کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میں پارکنگ کا ٹھیکہ منسوخ کرکے مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا گیا۔
تاہم اہم سوال یہ ہے کہ مبینہ طور پر اضافی کتنی رقم وصول کی گئی، سرکاری خزانے کو مجموعی طور پر کتنا نقصان پہنچا اور اس رقم میں سے کتنی واپس حاصل کی گئی؟ ان سوالات کے جواب تاحال واضح نہیں کیے گئے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر کرپشن کے خاتمے کی مہم واقعی نتیجہ خیز بنانا مقصود ہے تو احتساب کا دائرہ نچلے درجے کے ملازمین تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اعلیٰ افسران، فیصلہ سازوں اور ان افراد کے خلاف بھی تحقیقات ہونی چاہئیں جو بڑے مالی معاملات کی نگرانی کے ذمہ دار ہیں۔
سابق آئی جی پولیس ذوالفقار چیمہ کے مطابق کرپشن کے خلاف مؤثر کارروائی کا آغاز کابینہ اور بااثر افراد سے ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر بدعنوان وزرا، ارکان اسمبلی اور اعلیٰ بیوروکریٹس کے خلاف بھی کارروائی ضروری ہے، جبکہ بیرون ملک جائیدادیں بنانے والے افسران کے اثاثوں کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں۔
سابق نیب عہدیدار فاروق حمید نے بھی موجودہ مہم پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت کو صرف گرفتاریوں کی تعداد بتانے کے بجائے یہ بھی سامنے لانا چاہیے کہ کتنے مقدمات اپنے منطقی انجام تک پہنچے، کتنی رقم واپس خزانے میں آئی اور کتنے افسران کو سزا ملی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کسی شخص کی گرفتاری یا معطلی بذات خود جرم ثابت نہیں کرتی۔ شفاف احتساب کے لیے الزامات کے ساتھ مالی نقصان، تحقیقات کے نتائج، عدالتی فیصلوں اور ریکوری کی تفصیلات بھی عوام کے سامنے لانا ضروری ہیں۔
اصل امتحان بڑے کیسز ہیں
پنجاب حکومت کی کرپشن مخالف مہم کا اصل امتحان یہی ہوگا کہ کارروائیوں کا دائرہ نچلے درجے کے اہلکاروں اور ٹھیکیداروں سے آگے بڑھ کر اعلیٰ افسران اور بڑے مالی معاملات تک پہنچتا ہے یا نہیں۔
کرپشن کے خلاف جنگ اسی وقت ’’فیصلہ کن‘‘ سمجھی جائے گی جب احتساب عہدے، اثرورسوخ اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو اور بڑے مقدمات کے نتائج بھی عوام کے سامنے آئیں۔


