یمن کی حوثی ملیشیا نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ان کے ٹھکانوں پر 58 فضائی حملے کیے ہیں۔ یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حوثیوں نے سعودی عرب کے ایک فوجی اڈے پر کئی برس بعد اپنے بڑے میزائل اور ڈرون حملے کا اعلان کیا ہے۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا کہ سعودی عرب نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 58 فضائی حملے کیے۔ حوثیوں کے مطابق منگل سے اب تک ان کے ٹھکانوں پر سعودی حملوں کی تعداد 100 سے تجاوز کرچکی ہے، تاہم ریاض کی جانب سے ان دعوؤں کی تاحال تصدیق نہیں کی گئی۔
حوثیوں کے میڈیا ادارے المسیرہ ٹی وی کے مطابق سعودی طیاروں نے اتوار کو شمالی یمن کے صوبے صعدہ میں دو حملے کیے، جبکہ سرحدی ضلع منبہ میں توپ خانے سے بھی فائرنگ کی گئی۔ بعد ازاں شمالی صوبے الجوف میں ایک بازار پر بھی دو سعودی حملوں کی اطلاع دی گئی۔
یہ تازہ جھڑپیں یمن کی خانہ جنگی میں کئی برس کی نسبتاً خاموشی کے بعد دوبارہ شدت اختیار کرنے کے بعد سامنے آئی ہیں۔ حوثیوں نے گزشتہ ہفتے کے دوران سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لاتے ہوئے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں پر قبضہ مضبوط کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس سے باب المندب آبنائے کے اطراف ان کا کنٹرول مزید مستحکم ہوا ہے۔
حوثیوں نے رواں ہفتے سعودی عرب کے خلاف کئی برس کا سب سے بڑا میزائل اور ڈرون حملہ بھی کیا، جس میں ان کے مطابق تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں کے نتیجے میں تیل کے مقامات پر آگ لگنے اور 73 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
اتوار کو حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے جنوبی سعودی عرب میں شرورہ فوجی اڈے کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ حوثی ترجمان کے مطابق حملے میں اسلحے کے گوداموں اور ان مراکز کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے یمن میں فوجی کارروائیوں کی نگرانی کی جارہی تھی۔
دوسری جانب سعودی سول ڈیفنس حکام نے جنوبی علاقوں میں ممکنہ حوثی حملوں کے حوالے سے الرٹس جاری کیے۔ ہفتے کی رات حکام نے بتایا تھا کہ جازان کے علاقے میں حوثیوں کی جانب سے فائر کیا گیا ایک پروجیکٹائل گرنے سے دو افراد زخمی ہوئے۔
تقریباً 86 ہزار افراد بے گھر
یمن میں دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی نے انسانی بحران بھی سنگین کردیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق حالیہ ہفتوں میں تقریباً 86 ہزار افراد بے گھر ہوچکے ہیں، جبکہ بعض افراد یمن چھوڑ کر ہمسایہ ممالک کا رخ بھی کر رہے ہیں۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے مطابق 2 ہزار سے زائد افراد یمن سے نکل کر جبوتی پہنچ چکے ہیں۔
یمن کی خانہ جنگی 2014 میں اس وقت شروع ہوئی تھی جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کرکے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو اقتدار سے باہر کردیا۔ 2015 میں سعودی قیادت میں اتحاد نے حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی، تاہم 2022 میں اقوام متحدہ کی کوششوں سے جنگ بندی کے بعد لڑائی میں نمایاں کمی آگئی تھی۔
حالیہ کشیدگی نے یمن کو خطے میں جاری وسیع تر جنگ کا ایک اور اہم محاذ بنا دیا ہے، جبکہ بحیرہ احمر اور باب المندب میں بڑھتی کشیدگی عالمی تجارت اور سعودی تیل کی برآمدات کے لیے بھی تشویش کا باعث بن رہی ہے۔


