پمز نرسری میں فائر الارم اور سپرنکلر سسٹم موجود نہ ہونے کا انکشاف

اسلام آباد کے پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے واقعے پر حکومتی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے پمز میں فائر سیفٹی نظام بہتر بنانے اور تحقیقاتی رپورٹ کی سفارشات پر عملدرآمد تین ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

گزشتہ ماہ 26 اگست کو پمز نرسری میں آگ لگنے کے وقت 15 نومولود موجود تھے، جن میں سے صرف ایک بچے کی جان بچائی جا سکی تھی۔

وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں پمز کی تحقیقاتی رپورٹ اور وزارتِ قومی صحت کے پرفارمنس آڈٹ کا جائزہ لیا گیا۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تحقیقاتی رپورٹ میں تجویز کردہ قلیل مدتی اقدامات پر آئندہ تین ماہ میں عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

پمز کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے بھی فوری اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔

وزیراعظم نے فائر سیفٹی نظام کی بہتری کے لیے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ سے معاونت اور تجاویز لینے جبکہ عالمی ادارۂ صحت کی سفارشات کو بھی مدنظر رکھنے کی کمیٹی کے مطابق مرکزی ذمہ داری پمز اور اس کی اعلیٰ انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے، جو معلوم خطرات، سابق نرسری میں دھویں کی نشاندہی کرنے والے نظام، فائر الارم اور سپرنکلر سسٹ اور سکیورٹی عملے کے فوری ردعمل کو بھی رپورٹ کاایت کی۔

دوسری جانب پمز نرسری میں 26 اگست کو لگنے والی آگ کی تحقیقات کرنے والی حکومتی کمیٹی کی 43 صفحات پر مشتمل رپورٹ بھی جاری کردی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پمز میں نظام اور ادارہ جاتی سطح پر ناکامی سامنے آئی ہے، تاہم انفرادی ذمہ داری کا تعین دستیاب شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق مرکزی ذمہ داری پمز اور اس کی اعلیٰ انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے، جو معلوم خطرات، سابقہ انتباہات اور تفویض کردہ ذمہ داریوں کو مؤثر حفاظتی نظام میں تبدیل نہ کرسکی۔

رپورٹ کے مطابق آگ غالباً ایئرکنڈیشنر نمبر دو کی برقی سپلائی کیبل میں خرابی کے باعث لگی۔

تحقیقاتی رپورٹ میں نرسری میں دھویں کی نشاندہی کرنے والے نظام، فائر الارم اور سپرنکلر سسٹم کی عدم موجودگی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق نومولود بچوں کے انخلا کے لیے بھی مؤثر ہنگامی منصوبہ موجود نہیں تھا۔

تاہم کمیٹی نے فرنٹ لائن طبی اور سکیورٹی عملے کے فوری ردعمل کو بھی رپورٹ کا حصہ بنایا ہے۔

سی سی ٹی وی فوٹیج کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ بعض اہلکاروں نے بچوں کو بچانے کی کوشش کی، اس لیے یہ تاثر درست نہیں کہ عملہ نومولودوں کو چھوڑ کر فرار ہوگیا تھا۔

رپورٹ میں کسی مخصوص فرد کے خلاف فوجداری جرم ثابت ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی، تاہم چار ممکنہ پہلوؤں پر مزید تحقیقات کی سفارش کی گئی ممکنہ غفلت، ہنگامی راستے میں رکاوٹ، پیشگی تنبیہ کے باوجود کارروائی نہ ہے۔

ان میں ایئرکنڈیشنر کی تنصیب یا دیکھ بھال میں ممکنہ غفلت، ہنگامی راستے میں رکاوٹ، پیشگی تنبیہ کے باوجود کارروائی نہ کرنا اور بیرونی امدادی اداروں کو طلب کرنے میں ممکنہ تاخیر شامل ہیں۔