ایران کا اسلام آباد معاہدے کی بحالی پر زور، پسِ پردہ سفارتی کوششیں جاری

ایران نے کہا ہے کہ اسلام آباد معاہدے پر دوبارہ واپسی اور دونوں فریقوں کے درمیان پیدا ہونے والے مسائل حل کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزارتِ داخلہ کے ترجمان علی زین ‌وند نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی روکنے کے لئے بین الاقوامی سفارتی ثالثی بھی جاری ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ معاہدے میں شامل دوسرے فریق کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہییں۔ ان کے بقول معاہدے کی بحالی اسی وقت ممکن ہوگی جب اس میں کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد ہو۔

ایرانی ترجمان نے واضح کیا کہ اسلام آباد معاہدہ محض ایک معمول کی مفاہمت نہیں بلکہ اسے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی منظوری حاصل ہے اور ایرانی سپریم لیڈر نے بھی اس کی توثیق کی ہے۔ اسی لیے تہران اسے ریاستی نظام کے باضابطہ فیصلے کے طور پر دیکھتا ہے۔

ایرانی وزارتِ داخلہ کے مطابق صدر کی بھارت میں شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس اجلاسوں میں شرکت کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک اور فریقوں سے مسلسل مشاورت کی جا رہی ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ ان رابطوں کا مقصد موجودہ مسائل کو سفارتی طریقے سے حل کرنا ہے۔

ایران کی تازہ وضاحت سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران فی الحال معاہدے سے مکمل طور پر دستبرداری کے بجائے اس کی شرائط پر عملدرآمد اور دوبارہ بحالی پر زور دے رہا ہے۔ تاہم معاہدے کی مکمل بحالی کا انحصار دوسرے فریق کے مؤقف اور عملی اقدامات پر بھی ہوگا۔

ایران کہتا ہے کہ اسلام آباد معاہدہ برقرار رکھنے کی سیاسی اور ریاستی اہمیت رکھتا ہے، مگر اس کی بحالی کے لیے دوسرے فریق کو اپنے وعدے پورے کرنا ہوں گے۔