حکومت پاکستان نے آئی ایم ایف کی ایک اور اہم شرط پوری کرتے ہوئے مالیاتی نظم و ضبط بہتر بنانے اور غیر ضروری اخراجات پر قابو پانے کے لیے سپلیمنٹری گرانٹس سے متعلق نئے اور سخت قواعد و ضوابط جاری کردیے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق پارلیمنٹ سے منظور شدہ بجٹ سے ہٹ کر کسی بھی غیر بجٹ شدہ اضافی اخراجات یا سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری نہیں دی جائے گی۔
نئے قواعد کے تحت صرف شدید نوعیت کی قدرتی آفات یا ہنگامی حالات میں فنڈز کی دوبارہ تخصیص یا اضافی فنڈز کی فراہمی ممکن ہوگی۔ اس کے علاوہ مطلوبہ فنڈز نہ تو ری-اپروپری ایشن اور نہ ہی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کے ذریعے فراہم کیے جاسکیں گے۔
وزارت خزانہ کے مطابق کسی ناگزیر صورتحال میں سپلیمنٹری گرانٹ طلب کرنے والے متعلقہ پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر کو اس کی ضرورت کے اطلاق فوری طور پر تمام پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران، سرکاری محکموں، اداروں، ماتحت دفاتر اور متعلقہ اکاؤنٹنگ تنظیم حوالے سے ٹھوس جواز اور قابل قبول وجوہات پیش کرنا ہوں گی۔
جاری کردہ ہدایات کا اطلاق فوری طور پر تمام پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران، سرکاری محکموں، اداروں، ماتحت دفاتر اور متعلقہ اکاؤنٹنگ تنظیموں پر ہوگا۔
حکومت کے مطابق نئے ضوابط کا مقصد سرکاری اخراجات میں مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنا اور بجٹ سے ہٹ کر اخراجات کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔


