ایران جنگ نہیں چاہتااب فیصلہ امریکا کرے: مسعود پیزشکیان

نیویارک: ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی راستہ ایک بار پھر زیرِ بحث ہے۔ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ تہران جنگ جاری نہیں رکھنا چاہتا اور اب یہ فیصلہ امریکا کو کرنا ہے کہ وہ تنازع ختم کرنا چاہتا ہے یا نہیں۔

پیزشکیان نے کہا کہ اختلافات بات چیت کے ذریعے حل کیے جاسکتے ہیں تو ایک دوسرے کو قتل کرنے کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ایران امریکا کے ساتھ ایک ایسے معاہدے کے لیے تیار ہے جو جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کرے۔

یہ مؤقف ایرانی صدر کے اقوام متحدہ میں دیے گئے سخت لہجے سے بظاہر مختلف دکھائی دیتا ہے، جہاں انہوں نے کہا تھا کہ ایران امریکی دباؤ کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گا۔ یوں تہران کی موجودہ پوزیشن میں ایک طرف مزاحمت کا پیغام ہے تو دوسری طرف مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے کی کوشش بھی نظر آتی ہے۔

پیزشکیان نے سابق جنگ بندی کے ناکام ہونے پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ معاہدے کے صرف دو ہفتے بعد اسے ختم کردیا گیا۔ ان کے مطابق اگر موجودہ امریکی حکومت بین الاقوامی قانون کے دائرے میں معاہدہ کرنا چاہتی ہے تو ایران اس کے لیے تیار ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کی بات بھی کی ہے، لیکن ساتھ ہی ایران کے خلاف سخت فوجی دھمکیاں بھی دی ہیں۔ اس صورتحال نے سفارتی مذاکرات اور فوجی دباؤ، دونوں راستوں کو بیک وقت جاری رکھا ہوا ہے۔

تنازع کا ایک اہم پہلو یمن بھی ہے۔ پیزشکیان نے حوثیوں کے بارے میں کہا کہ وہ اپنے فیصلوں کے خود ذمہ دار ہیں اور تہران انہیں براہِ راست ہدایات نہیں دیتا۔ دوسری جانب امریکا اور اس کے اتحادی ایران پر حوثی تحریک کی حمایت کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔

اس دوران ایرانی اور امریکی نمائندوں کے درمیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر رابطے ہوئے، تاہم فوری طور پر کسی بڑی پیش رفت کا اعلان نہیں کیا گیا۔

اصل سوال یہ ہے کہ بیانات سے آگے دونوں فریق کن قابلِ عمل شرائط پر اتفاق کرتے ہیں۔ ایران مذاکرات کی بات کررہا ہے، جبکہ واشنگٹن کی جانب سے دباؤ اور سخت شرائط کا سلسلہ بھی برقرار ہے۔