پریس کانفرنس کے دوران ترجمان پاک فوج نے اس شخص کو میڈیا کے سامنے پیش کیا جسے بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں شہید کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 29 ستمبر کی رات بھارتی آرمی کور نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں آپریشن کے دوران ایک دہشت گرد کو ہلاک کیا ہے جس کی شناخت محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کے نام سے کی گئی اور اسے لشکر طیبہ کا کمانڈر اور سابق ایس ایس جی حوالدار ظاہر کیا گیا، یہاں تک کہ بھارتی نیوز ایجنسی نے اس کا مبینہ سروس نمبر بھی جاری کیا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس میں سابق ایس ایس جی حوالدار محمد آصف کو لائیو پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہے وہ شخص جسے بھارت نے لشکر طیبہ کا کمانڈر، دہشت گرد اور فوجی بنا کر مارنے کا ڈرامہ رچایا، جبکہ وہ زندہ اور ہمارے سامنے موجود ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بھارت نے 29 ستمبر کو یہ فالس فلیگ آپریشن 6 مقاصد کے لیے اسٹیج کیا۔ بھارت دنیا میں دہشت گردی پھیلانے والا سب سے بڑا ملک ہے، جو مکتی باہنی سے لے کر ٹی ٹی پی تک دہشت گرد تنظیموں کو فنڈنگ کرتا رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر اس وقت دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکا ہے جہاں 10 لاکھ سے زائد بھارتی فوجی تعینات ہیں اور کشمیریوں کو ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں جانے کے لیے بھی اجازت لینا پڑتی ہے۔ بھارت اپنی اسی ریاستی دہشت گردی پر پردہ ڈالنے کے لیے ایسے ڈرامے رچاتا ہے۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہمارا پالا ایک گھٹیا دشمن سے پڑا ہے جو سمجھتا ہے ہر مسئلہ جھوٹ سے حل ہو جائے گا۔ بھارت کچھ کرنا چاہتا ہے تو آ جائے، اس بار ہمارا جواب بہت سخت اور دردناک ہوگا۔
پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ پاکستان مکہ دفاعی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے اور حرمین شریفین کے دفاع کے لیے تیار ہے۔ پاکستان کی سلامتی اور جغرافیائی سرحدوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ افواج پاکستان آئین کے تابع اور ریاست کے احکامات کی پابند ہے۔
افغانستان سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغان طالبان رجیم نے دہشت گردوں کی سہولت کاری کا راستہ خود منتخب کیا ہے اور آج افغانستان دنیا بھر کی دہشت گرد تنظیموں کا مسکن بن چکا ہے، جبکہ افغانستان میں حالیہ داخلی انتشار سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں۔


