یورپ میں شدید گرمی کا نیا ریکارڈ: ہزاروں اضافی اموات رپورٹ

یورپ کے نصف سے زاید حصے نے 2026 کے موسم گرما میں غیر معمولی گرمی کا سامنا کیا ہے۔ یورپی یونین کے موسمیاتی مانیٹر کوپرنیکس کے مطابق یہ اب تک ریکارڈ کی جانے والی سب سے وسیع سطح کی شدید گرمی ہے۔

یورپی سینٹر فار میڈیم رینج ویدر فورکاسٹس (ای سی ایم ڈبلیو ایف)، جو کوپرنیکس پروگرام چلاتا ہے، کے مطابق رواں سال گرمی کی خاص بات صرف اس کی شدت نہیں بلکہ اس کا غیر معمولی جغرافیائی پھیلاؤ بھی تھا۔

ای سی ایم ڈبلیو ایف کی ماہر سمانتھا برجس کے مطابق 2026 میں متعدد موسمیاتی ریکارڈ بیک وقت ٹوٹتے دیکھے گئے۔

سال 2026 کا موسم گرما مجموعی طور پر یورپ کی تاریخ کا تیسرا گرم ترین موسم گرما رہا، جبکہ مغربی یورپ کے لیے یہ اب تک کا گرم ترین موسم گرما تھا۔

کئی یورپی ممالک میں مجموعی طور پر اب تک کے بلند ترین درجہ حرارت ریکارڈ کیے گئے۔

سمانتھا برجس کے مطابق رواں موسم گرما میں یورپ کی 10 شدید ترین ہیٹ ویوز میں سے چار رونما ہوئیں۔ تاہم اگست 2003 کی ہیٹ ویو اب بھی یورپ کی شدید ترین ہیٹ ویو کے طور پر سرفہرست ہے۔

کوپرنیکس کے مطابق یورپ کے 80 فیصد رقبے نے شدید ہیٹ اسٹریس ریکارڈ کیا گیا، نتیجے میں چکر آنا، سر درد اور جسمانی کمزوری سے لے کر سنگین حالات جیسی صورت حال کا سامنا کیا۔ براعظم میں موسم گرما کے اختتام تک ریکارڈ 41 دن 32 ڈگری سے زائد محسوس ہونے والا درجہ حرارت برقرار رہا۔

یورپ کو صرف شدید گرمی ہی کا سامنا نہیں کرنا پڑا بلکہ کئی علاقوں میں خشک سالی بھی سنگین ہوگئی۔

کوپرنیکس کے مطابق موسم گرما کے دوران یورپی دریاؤں میں پانی کا بہاؤ 1992 میں ریکارڈ رکھنے کے آغاز کے بعد سب سے کم سطح تک پہنچ گیا۔

کم پانی نے مال بردار کشتیوں کی نقل و حمل کو متاثر کیا، جبکہ زرعی آبپاشی، جوہری بجلی گھروں کے ری ایکٹرز کو ٹھنڈا رکھنے اور پن بجلی کی پیداوار پر بھی دباؤ بڑھا۔

رپورٹ کے مطابق یورپ میں خشک سالی کے حالات گزشتہ 45 برس کے دوران مجموعی طور پر بڑھتے رہے ہیں۔

کوپرنیکس کے مطابق اگست کے اختتام تک یورپ کا تقریباً نصف حصہ خشک سالی سے متاثر تھا۔

موسمیاتی ماہرین کے مطابق رواں سال کی صورتحال کی خاص بات صرف ایک ریکارڈ ٹوٹنا نہیں تھا، بلکہ گرمی، خشک سالی، کم دریائی بہاؤ اور دیگر موسمیاتی تبدیلیوں کے متعدد ریکارڈ لہروں کے بڑھنے اور وسیع ہونے میں کردار ادا کیا ہے، جبکہ خطے میں موسم بہز کا ایک ساتھ سامنے آنا تھا۔

کوپرنیکس کے مطابق موسمیاتی تبدیلی نے یورپ میں شدید گرمی کی ان لہروں کے بڑھنے اور وسیع ہونے میں کردار ادا کیا ہے، جبکہ خطے میں موسم بہار ہی سے ہیٹ ویوز کا سلسلہ غیر معمولی طور پر جلد شروع ہوگیا تھا۔