دہشت گردی کے خلاف جنگ:خیبر پختونخوا کو 16 سال میں 779 ارب روپے ملے: دستاویزات

پشاور: سرکاری دستاویزات کے مطابق خیبرپختونخوا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ، اس سے ہونے والے نقصانات کے ازالے اور متعلقہ اخراجات کی مد میں وفاق سے گزشتہ 16 برس کے دوران 799 ارب 35 کروڑ 90 لاکھ روپے جاری کیے گئے۔

دستاویزات کے مطابق یہ رقم مالی سال 2010-11 سے ستمبر 2026 تک مختلف ادوار میں خیبرپختونخوا کو فراہم کی گئی۔

دستاویزات کے مطابق ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبرپختونخوا کو وفاقی ٹیکسوں کے پول سے ایک فیصد اضافی رقم دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں ملتی ہے۔

یہ فنڈ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور اس جنگ سے متعلق صوبے کے اخراجات کے لیے فراہم کیا جاتا ہے۔

رواں مالی سال کا تخمینہ 149 ارب روپے

مالی سال 2026-27 کے لیے خیبرپختونخوا کے وار آن ٹیرر فنڈ کا تخمینہ تقریباً 149 ارب 76 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے ڈھائی ماہ کے دوران صوبے کو اس مد میں 23 ارب 69 لاکھ روپے جاری بھی کیے جا چکے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024-25 میں خیبرپختونخوا کو وار آن ٹیرر کی مد میں 112 ارب 29 کروڑ 60 لاکھ روپے موصول ہوئے۔

اس کے اگلے مالی سال یعنی 2025-26 میں یہ رقم بڑھ کر 128 ارب 23 کروڑ 40 لاکھ روپے ہوگئی۔ یوں ان دو مالی سالوں میں صوبے کو اس مد میں مجموعی طور پر 240 ارب روپے سے زائد موصول ہوئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دہشت گردی سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے صوبائی کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں الگ سے کوئی مخصوص ہیڈ موجود نہیں۔

محکمہ خزانہ خیبر پختونخوا کا موقف ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں ملنے والی رقم صرف خیبرپختونخوا تک محدود نہیں بلکہ دیگر صوبوں کو بھی اس نوعیت کے فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق خیبرپختونخوا پولیس کے آپریشنل بجٹ میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ پولیس کا آپریشنل بجٹ 15 ارب روپے سے بڑھا کر 30 ارب 20 کروڑ روپے کردیا گیا ہے۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق مالی سال 2025-26 میں خیبر پختونخوا پولیس کے بجٹ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 38 ارب 92 کروڑ روپے کا اضافہ کیا گیا۔

دستاویزات میں سامنے آنے والے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کے باعث خیبرپختونخوا کے مالی وسائل پر مسلسل دباؤ موجود ہے، جبکہ وفاقی سطح سے وار آن ٹیرر کی مد میں صوبے کو بڑی رقوم فراہم کی جاتی رہی ہیں۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق 2010-11 سے ستمبر 2026 تک جاری ہونے والی 799 ارب روپے سے زائد رقم اسی مالی بوجھ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق اخراجات کے تناظر میں فراہم کی گئی