لی برینیٹس : فرانس اور سوئٹزرلینڈ کی سرحد پر واقع خوبصورت اور تاریخی جھیل لیک ڈیس برینیٹس ریکارڈ توڑ گرمی اور شدید خشک سالی کی وجہ سے مکمل طور پر سوکھ گئی ہے۔ جھیل کے خشک پیندے پر اگنے والی جڑی بوٹیوں کو کاٹ کر مقامی لوگوں نے “ہیلپ” اور “ایس او ایس” کے الفاظ لکھ کر حکام سے جھیل کو بچانے کی دہائی دی ہے۔
جھیل کے خشک ہوجانے سے اس کی تہہ نمایاں ہوگئی ہے، جہاں گھاس اور جھاڑیاں اگ آئی ہیں۔ مقامی لوگوں نے خشک زمین پر ہیلپ اور ایس او ایس کے الفاظ بھی لکھ دیے ہیں تاکہ حکام اور آنے والے سیاحوں کی توجہ اس سنگین صورتحال کی جانب مبذول کرائی جاسکے۔
یہ جھیل فرانس کے جورا پہاڑی سلسلے سے نکلنے والے دریائے ڈوبس کے پانی سے بنتی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان قدرتی سرحد کا حصہ بھی ہے۔ جھیل کے اختتام پر واقع 27 میٹر بلند آبشار بھی پانی کی کمی کے باعث بہنا بند ہوگئی ہے۔
ماہرین کے مطابق جھیل کے خشک ہونے کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں، جن میں زیرِ زمین پانی کے اخراج کا باعث بننے والی ارضیاتی دراڑیں، معمول سے کم بارش اور مسلسل ہیٹ ویوز شامل ہیں۔
سوئٹزرلینڈ میں جون، جولائی اور اگست تینوں ماہ 1864 میں درجہ حرارت کی باقاعدہ پیمائش شروع ہونے کے بعد سے گرم ترین مہینے ریکارڈ ہوئے۔
پانی تیزی سے کم ہورہا ہے
جھیل میں موجود پانی اب صرف ایک گہرے حصے تک محدود رہ گیا ہے۔ مقامی کشتی رانی کمپنی کے مالک اور کپتان ایوان ڈوریگ روزانہ پانی کی سطح کی پیمائش کرتے ہیں۔
ان کے مطابق جہاں عام حالات میں جھیل کی گہرائی 25 سے 30 میٹر تک ہوتی تھی، وہاں اب صرف تقریباً 9 میٹر پانی باقی رہ گیا ہے۔ پانی کم ہونے کے ساتھ مچھلیاں بھی محدود حصے میں جمع ہوگئی ہیں۔
مقامی افراد کے لیے جھیل کا خشک ہونا کوئی نیا تجربہ نہیں، تاہم موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک قرار دی جارہی ہے۔ پانی کی سطح تیزی سے کم ہورہی ہے اور 1906 میں ریکارڈ کی گئی تاریخی کم ترین سطح بھی جلد عبور ہونے کا خدشہ ہے۔
پانی کی کمی نے جھیل سے وابستہ سیاحتی سرگرمیوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ کشتی رانی کا آپریشن 20 جولائی کو بند کرنا پڑا، حالانکہ سیاحتی سیزن میں روزانہ 200 سے 300 افراد جھیل کی سیر کے لیے آتے تھے۔
اب درجنوں کشتیاں اور تیرنے والے پلیٹ فارم خشک جھیل کی تہہ پر پھنسے ہوئے ہیں، جس سے مقامی کاروبار کو بھی بڑا دھچکا لگا ہے۔
فرانس اور سوئٹزرلینڈ کے حکام نے 2022 میں جھیل کے پانی کو زیرِ زمین دراڑوں میں جانے سے روکنے سمیت مختلف اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے مشترکہ ٹاسک فورس قائم کی تھی، تاہم اب تک کوئی فیصلہ کن قدم سامنے نہیں آسکا۔
یکم اکتوبر کو جھیل میں پانی کی سطح سطحِ سمندر سے 735.34 میٹر ریکارڈ کی گئی، جو معمول کی سطح سے 14.66 میٹر کم ہے۔ پانی کی سطح روزانہ تقریباً 20 سے 22 سینٹی میٹر نیچے جارہی ہے۔
مقامی افراد کو خدشہ ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خوبصورت جھیل مستقل طور پر اپنا وجود کھو سکتی ہے۔
جھیل سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اب مزید تاخیر کی گنجائش نہیں، جھیل کے پانی کو زیرِ زمین جانے سے روکنے اور خشک جھیل کی تہہ کو محفوظ بنانے کے لیے فوری عملی اقدامات کرنا ہوں گے، کیونکہ کئی سال انتظار کرنا اب ممکن نہیں رہا۔
سوئٹزرلینڈ میں 1864 میں موسم کے اعداو شمار کا ریکارڈ رکھنا شروع کیے جانے کے بعد سے جون، جولائی اور اگست کے مہینے تاریخ کے گرم ترین مہینے ثابت ہوئے ہیں۔
جھیل کا پانی خشک ہونے سے 27 میٹر بلند آبشار بھی بالکل بند ہو چکی ہے، جبکہ سیاحت اور کشتی رانی کی صنعت مکمل طور پر ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے۔
جھیل سوکھنے کی بنیادی وجہ شدید ترین گرمی، بارشوں کی کمی اور زمینی دراڑیں ہیں، جن کے ذریعے پانی زمین کے نیچے جذب ہو جاتا ہے۔
جھیل کے نیویگیشن کپتان ایوان ڈیوریگ کے مطابق، جہاں پہلے پانی کی گہرائی 25 سے 30 میٹر ہوا کرتی تھی، وہاں اب صرف چند میٹر پانی باقی رہ گیا ہے اور کشتیاں سوکھی زمین پر کھڑی ہیں۔
مقامی رہائشیوں اور ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر فوری طور پر جھیل کے پیندے کی دراڑوں کو بند کرنے کے لیے عملی اقدامات نہ کیے گئے، تو یہ جھیل ہمیشہ کے لیے نقشے سے مٹ جائے گی۔


