آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اور بحری جہازوں پر حملوں کے باوجود مشرقِ وسطیٰ کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک نے خام تیل کی برآمدات کو دوبارہ جنگ سے پہلے کی سطح تک پہنچا دیا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ بحالی معمول کی صورتحال کی عکاس نہیں بلکہ متبادل راستوں، پائپ لائنوں اور سمندر میں ٹینکرز کے درمیان تیل منتقل کرنے کے غیر معمولی طریقوں کا نتیجہ ہے۔
جرمن ویب سائیٹ ڈی ڈبلیو کی رپورٹ میں ٹریڈ انٹیلیجنس کمپنی کپلر کے اعداد و شمار کی بنیاد پر بتایا گیا ہے کہ ایران جنگ کے آغاز اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد صورتحال اس کے برعکس ہوگئی تھی۔ کپلر کے مطابق صرف 10 دن کے اندر ایران کے علاوہ خطے کی خام تیل کی سات روزہ اوسط یومیہ برآمدات میں تقریباً 72 فیصد کمی واقع ہوئی۔
بعد ازاں تیل پیدا کرنے والے ممالک نے ہرمز پر انحصار کم کرنے کے لیے متبادل انتظامات شروع کیے اور ستمبر تک خلیجی خام تیل کا تقریباً 40 فیصد ایسا راستہ اختیار کر رہا تھا جس میں آبنائے ہرمز سے گزرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ جنگ سے قبل یہ شرح صرف 17 فیصد تھی۔
رواں برس ستمبر کے آخری ہفتے میں ایران کے علاوہ خلیجی ممالک کی خام تیل کی یومیہ برآمدات بعض دنوں میں 1 کروڑ 95 لاکھ سے 2 کروڑ 25 لاکھ بیرل تک پہنچ گئیں، جو جنگ سے پہلے کی تقریباً 1 کروڑ 80 لاکھ بیرل یومیہ اوسط سے بھی زیادہ ہیں۔
سمندر میں ٹینکر تبدیل کرکے تیل کی ترسیل
تیل کی نقل و حمل کے طریقہ کار میں بھی بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ کپلر کے مطابق اگست میں خلیج سے برآمد کیے گئے 70 فیصد سے زیادہ خام تیل کو خلیج اومان میں ایک ٹینکر سے دوسرے ٹینکر میں منتقل کیا گیا۔
جنگ سے پہلے یہ طریقہ خلیجی خام تیل کی ترسیل میں تقریباً استعمال نہیں ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ سعودی عرب نے بحیرۂ احمر کے ذریعے تیل بھیجنے میں اضافہ کیا، جبکہ متحدہ عرب امارات نے فجیرہ تک جانے والی اپنی پائپ لائن کا استعمال بڑھا دیا۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور عراق خطے کے اہم خام تیل برآمد کنندگان میں شامل ہیں۔ تاہم ایران اس بحالی سے مستثنیٰ ہے اور اس کی تیل برآمدات اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے خاصی کم ہیں، جس کی بڑی وجوہات میں امریکی پابندیاں اور دیگر پالیسی اقدامات شامل ہیں۔
ہرمز کیوں اہم؟
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو بحیرۂ عرب اور بحرِ ہند سے ملانے والی انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔ جنگ سے پہلے دنیا کی یومیہ خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً 20 فیصد سپلائی اس راستے سے گزرتی تھی۔
اسی لیے یہاں جاری کشیدگی کا اثر صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہتا بلکہ عالمی توانائی منڈی، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی بحری تجارت پر بھی پڑ سکتا ہے۔
بحری جہاز اب بھی نشانے پر
تیل کی برآمدات میں بحالی کے باوجود آبنائے ہرمز کے اطراف خطرات ختم نہیں ہوئے۔ گزشتہ چند ہفتوں میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے کم از کم سات واقعات رپورٹ کیے گئے ہیں۔
بحری انٹیلیجنس کمپنی میریسکس کے مطابق یکم اکتوبر کو خام تیل لے جانے والے ٹینکر کاظمہ تھری کو مبینہ طور پر ایک نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا، تاہم جہاز کے تمام عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا۔
برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی کے مطابق 2 اکتوبر سے آبنائے ہرمز یا خلیج عدن میں روزانہ کم از کم ایک حملے کی اطلاع سامنے آتی رہی ہے۔
یوں خلیجی ممالک نے تیل کی ترسیل کے لیے نئے راستے ضرور تلاش کرلیے ہیں، لیکن آبنائے ہرمز کے گرد موجود سیکیورٹی خطرات برقرار ہیں۔ ماہرین کے نزدیک برآمدات کی موجودہ بحالی کو معمول کی واپسی سمجھنا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ خطے کی توانائی سپلائی اب بھی جنگی خطرات اور غیر معمولی ترسیلی انتظامات پر منحصر ہے۔


