سعودی عرب میں 40 ہزار پاکستانی فوجیوں کی تعیناتی قیاس آرائی قرار

اسلام آباد: وزارتِ اطلاعات و نشریات نے سعودی عرب میں 30 سے 40 ہزار پاکستانی فوجیوں کی تعیناتی سے متعلق خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کو ’قیاس آرائی پر مبنی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی عملی تفصیلات خفیہ ہیں اور ان کے بارے میں غیر مصدقہ اعداد و شمار پر مبنی قیاس آرائیوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔

روئٹرز کی رپورٹ میں ایک پاکستانی عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ پاکستانی فوجی دستے گزشتہ سال سے مختلف مراحل میں سعودی عرب پہنچتے رہے ہیں جبکہ خطے میں حالیہ کشیدگی کے بعد بھی مزید تعیناتی کی گئی۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان نے سعودی عرب کی سرحدوں کے دفاع اور ڈرون و میزائل حملوں کے خلاف مدد کے لیے 30 ہزار سے 40 ہزار کے درمیان فوجی سعودی عرب میں تعینات کیے ہیں۔

تاہم پاکستانی وزارتِ اطلاعات نے خاص طور پر فوجیوں کی تعداد اور تعیناتی کی تفصیلات کو غیر مصدقہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی اطلاعات سے احتراز کیا جانا چاہیے جو نامعلوم یا غیر منسوب ذرائع پر مبنی ہوں۔

وزارتِ اطلاعات کے فیکٹ چیک اکاؤنٹ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان حرمین شریفین اور سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اپنے عزم کا واضح اظہار کر چکا ہے اور اس حوالے سے پاکستان کا مؤقف غیر متزلزل ہے۔
وزارت نے میڈیا سے کہا کہ اگر اس معاملے سے متعلق سوالات ہوں تو متعلقہ سرکاری حکام سے رجوع کیا جائے اور غیر مصدقہ اعداد و شمار یا تفصیلات کو حتمی حقیقت کے طور پر شائع نہ کیا جائے۔

پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی اور حرمین شریفین کے تحفظ کے عزم کو ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے، تاہم وزارتِ اطلاعات نے 40 ہزار یا 30 سے 40 ہزار فوجیوں کی موجودگی کی تصدیق نہیں کی۔ اس کے بجائے وزارت نے کہا ہے کہ معاہدے کی آپریشنل تفصیلات خفیہ ہیں۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طویل عرصے سے دفاعی تعاون موجود ہے، جس میں فوجی تربیت، مشاورت اور دفاعی تعاون شامل رہے ہیں۔ حالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات کی اہمیت مزید نمایاں ہوئی ہے۔

تاہم موجودہ معاملے میں روئٹرز کی رپورٹ میں بیان کردہ فوجیوں کی تعداد کو پاکستانی حکومت نے مستند سرکاری اعداد و شمار کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔ اس لیے 40 ہزار پاکستانی فوجیوں کی تعیناتی کو فی الحال ایک مصدقہ سرکاری تعداد کے بجائے روئٹرز کی رپورٹ میں سامنے آنے والا دعویٰ سمجھنا زیادہ درست ہے۔