اسرائیلی بربریت کے 3 سال: غزہ میں معیشت، تعلیم اور صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر

غزہ سٹی: غزہ پر اسرائیلی بربریت کو تین سال مکمل ہونے کے بعد فلسطینی علاقے کی روزمرہ زندگی ناقابلِ شناخت حد تک تبدیل ہو چکی ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی اسرائیلی بربریت میں غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 74 ہزار 245 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

اکتوبر 2025 میں اعلان کردہ جنگ بندی کے باوجود حملے اور فوجی سرگرمیاں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں اور وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد بھی 1462 فلسطینی جاں بحق ہوئے۔

گھروں سے بے دخلی

صیہونی بربریت نے غزہ کے لاکھوں شہریوں سے ان کے گھر، بجلی، صاف پانی اور نقل و حرکت کی بنیادی سہولیات چھین لی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق ستمبر میں غزہ کی 94 فیصد آبادی کو فوری رہائش اور بنیادی گھریلو امداد کی ضرورت تھی، جبکہ تقریباً 65 فیصد گھرانے خیموں یا عارضی پناہ گاہوں میں رہ رہے تھے۔

بہت سے خاندانوں کے پاس مناسب بستر، روشنی، بحال نہیں ہو سکا، جس کے باعث گھرانے اور ضروری خدمات جنریٹرز پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ ایندھن، انجن آئل اور اسپیئر پارٹس کی قلتین سال کی جنگ نے غزہ کی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔

اقوام متحدہ کی کانفرنس کے مقابلے میں صرف 6،6 فیصد جبکہ تعمیراتی شعبہ محض ایک فیصد پر پابندیوں کے باعث بنیادی اشیا بھی کھانا پکانے کا سامان اور صفائی کی سہولیات بھی موجود نہیں۔

پانی کا بحران بھی سنگین ہو چکا ہے۔ اگست کے آغاز میں جائزہ لیے گئے 91 فیصد گھرانے درمیانے سے شدید آبی عدم تحفظ کا شکار تھے، جبکہ جون میں یہ شرح 84 فیصد تھی۔

غزہ کا بجلی کا نظام بھی مؤثر طور پر بحال نہیں ہو سکا، جس کے باعث گھرانے اور ضروری خدمات جنریٹرز پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ ایندھن، انجن آئل اور اسپیئر پارٹس کی قلت صورتحال کو مزید مشکل بنا رہی ہے۔

معیشت تقریباً زمین بوس

اسرائیلی بربریت نے غزہ کی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی کے مطابق ستمبر تک غزہ کے 92 فیصد معاشی مراکز یا تو تباہ ہو چکے تھے یا انہیں نقصان پہنچا تھا جبکہ بے روزگاری کی شرح 78 فیصد تک پہنچ گئی۔

سال2025 میں فی کس جی ڈی پی صرف 212 ڈالر رہ گئی، جو 2022 کی سطح کا تقریباً 17 فیصد ہے۔ زراعت اور صنعت کی پیداوار 2022 کے مقابلے میں صرف 6،6 فیصد جبکہ تعمیراتی شعبہ محض ایک فیصد کی سطح پر رہ گیا۔

پابندیوں کے باعث بنیادی اشیا بھی مہنگی ہو چکی ہیں۔ ستمبر میں قیمتیں جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 200 فیصد زیادہ تھیں۔

روزگار اور آمدنی کے ذرائع ختم ہونے کے بعد بہت سے خاندان امدادی اداروں سے ملنے والی مالی معاونت، قرض اور چھوٹے غیر رسمی کاروبار پر انحصار کر رہے ہیں۔ نقد رقم کی قلت کے باعث ڈیجیٹل ادائیگیوں اور ای والٹس کا استعمال بھی بڑھ گیا ہے۔

بچوں کی تعلیم کے 3 سال ضائع

غزہ کے بچوں کے لیے جنگ نے تعلیم کا نظام بھی تقریباً مفلوج کر دیا ہے۔ہت سے بچے اسکول کی عمارتوں کے بجائے خیموں اور عارضی تعلیمی مراکز میں پڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق تقریباً تین سال کی تعلیمی رکاوٹ نے بچوں کی بنیادی صلاحیتوں اور تعلیمی کارکردگی میں بڑے خلا کا خطرہ پیدا یونیسیف کے مطابق غزہ کے تقریباً 98 فیصد اسکولوں کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہو گئے۔

اپریل 2026 تک 4 سے 17 سال عمر کے تقریباً 7 لاکھ بچے لگ بھگ تین مسلسل سال تک باقاعدہ اسکول میں تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہے، جبکہ تقریباً 2 لاکھ بچوں کو کسی بھی قسم کی تعلیم تک رسائی حاصل نہیں۔

بہت سے بچے اسکول کی عمارتوں کے بجائے خیموں اور عارضی تعلیمی مراکز میں پڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق تقریباً تین سال کی تعلیمی رکاوٹ نے بچوں کی بنیادی صلاحیتوں اور تعلیمی کارکردگی میں بڑے خلا کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔

صحت کا نظام تباہی کے قریب

غزہ کا صحت کا نظام بھی جنگ کے بدترین اثرات کا شکار ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق غزہ کے تمام 36 اسپتالوں کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ صرف 19 اسپتال کسی نہ کسی صورت میں کام کر رہے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی مکمل استعداد پر خدمات انجام نہیں دے رہا۔

ادویات، طبی آلات، تشخیصی سامان اور ایندھن کی شدید قلت نے کینسر، ڈائیلاس عالمی ادارۂ صحت کے مطابق مزید دسیوں ہزار افراد کو ایسی خصوصیزہ کے جغرافیے اور شہریوں کی نقل و حرکت کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔

فوجی کنٹرول اور رسائی پر پابندیوں نے علاقے کو مختلف حصوں میں تقسیم کر پھیل چکی ہیں، جس کے نتیجے میں 20 لاکھ سے زائد فلسطینی اں مثال ہے۔ جنگ کے دوران جنوبی غزہ کا یہ شہر ایک وقت میں 10 لاکھ سے زائد بے گھر فلسطینیوں کا مرکز بن گیا تھا۔

مئی 2024 میں اسرائیلی فوجی کارروائی کے نتیجے میں کے نظام کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ حماس 2007 سے غزہ میں شہریز اور دائمی بیماریوں کے علاج کو متاثر کیا ہے۔

اکتوبر 2023 سے اب تک تقریباً 12 ہزار 400 مریضوں کو طبی انخلا کے ذریعے غزہ سے باہر علاج کے لیے منتقل کیا گیا، تاہم عالمی ادارۂ صحت کے مطابق مزید دسیوں ہزار افراد کو ایسی خصوصی طبی سہولیات کی ضرورت ہے جو غزہ میں دستیاب نہیں۔

غزہ کا جغرافیہ بھی بدل گیا

جنگ نے صرف عمارتیں ہی نہیں گرائیں بلکہ غزہ کے جغرافیے اور شہریوں کی نقل و حرکت کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔ فوجی کنٹرول اور رسائی پر پابندیوں نے علاقے کو مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوجی کنٹرول اور رسائی کی پابندیاں غزہ کے تقریباً 70 فیصد علاقے تک پھیل چکی ہیں، جس کے نتیجے میں 20 لاکھ سے زائد فلسطینی 30 فیصد سے بھی کم علاقے میں محدود ہو گئے ہیں۔

رفح اس تبدیلی کی نمایاں مثال ہے۔ جنگ کے دوران جنوبی غزہ کا یہ شہر ایک وقت میں 10 لاکھ سے زائد بے گھر فلسطینیوں کا مرکز بن گیا تھا۔ مئی 2024 میں اسرائیلی فوجی کارروائی کے نتیجے میں اقوام متحدہ کے مطابق 8 لاکھ سے زائد افراد رفح سے بے گھر ہوئے۔

حکمرانی اور امن و امان بھی متاثر

جنگ نے غزہ کے شہری انتظام اور امن و امان کے نظام کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ حماس 2007 سے غزہ میں شہری انتظام اور سکیورٹی کے معاملات چلا رہی تھی، تاہم جنگ کے نتیجے میں یہ نظام بری طرح متاثر ہوا۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر کے مطابق جنوری سے مئی 2026 کے دوران پولیس اور سکیورٹی تنصیبات پر کم از کم 12 حملے ریکارڈ کیے گئے، جن میں 53 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 35 پولیس اہلکار شامل تھے۔

اقوام متحدہ کے مطابق شہری انتظامی اداروں کو نشانہ بنائے جانے سے بدامنی بڑھی اور شہریوں کے تحفظ کا نظام کمزور ہوا۔ دیگر فلسطینی اداروں نے بھی سکیورٹی خلا کے نتیجے میں اغوا، املاک پر حملوں اور امدادی سامان کی بار بے گھر ہو چکے ہیں اور معمول کی زندگی کی وہ بنیادی سہولیات، جوانی جمع کرنا، موبائل فون چارج کرنا، کھانا پکانا، نہانا اور ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنا بھی وسائل اور منصوبہ بندی کا متقاضی ہے۔ ایسے لوٹ مار میں اضافے کی نشاندہی کی ہے۔

غزہ میں تین سالہ جنگ نے ایک پوری آبادی کے گھر، روزگار، تعلیم، صحت، بنیادی سہولیات اور سماجی ڈھانچے کو متاثر کیا ہے۔ لاکھوں افراد بار بار بے گھر ہو چکے ہیں اور معمول کی زندگی کی وہ بنیادی سہولیات، جو کبھی روزمرہ کا حصہ تھیں، اب بقا کی جدوجہد بن چکی ہیں۔

پانی جمع کرنا، موبائل فون چارج کرنا، کھانا پکانا، نہانا اور ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنا بھی وسائل اور منصوبہ بندی کا متقاضی ہے۔ ایسے حالات میں غزہ کے شہریوں کے لیے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ جنگ کے بعد معمول کی زندگی کی واپسی کب اور کیسے ممکن ہوگی۔