تہران: ایران اور امریکا کے درمیان لفظی جنگ شدت اختیار کرگئی، ایرانی رہبرِ اعلیٰ کے سینئر مشیر علی اکبر ولایتی نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کا مسئلہ اسلامی انقلاب نہیں بلکہ ایک مضبوط اور خودمختار ایرانی تہذیب ہے۔
علی اکبر ولایتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں مارکو روبیو کے حالیہ خطاب پر اعتراض اٹھایا، جو انہوں نے یونان کے دارالحکومت ایتھنز کے دورے کے دوران کیا تھا۔ روبیو نے قدیم یونان اور فارس کی جنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایران اور امریکا کے موجودہ تناؤ سے مماثلتیں بیان کی تھیں۔
ولایتی کے مطابق، روبیو کا مؤقف تضاد کا شکار ہے، کیونکہ قدیم یونان کی جانب سے آخری دم تک مزاحمت کو سراہا جاتا ہے، لیکن جب ایرانی قوم اپنے عزم اور مزاحمت کا اظہار کرتی ہے تو اسے ’موت کی پرستش کرنے والا گروہ‘ قرار دیا جاتا ہے۔
ایرانی رہنما کے مشیر نے کہا کہ اپنی قوم کی مزاحمت کو بہادری اور دوسروں کی مزاحمت کو منفی انداز میں پیش کرنا تہذیب نہیں بلکہ بددیانتی ہے۔
ولایتی نے امریکا کے اخلاقی مؤقف پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے ہیروشیما، ویتنام، عراق اور افغانستان کی تباہ کاریوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ ان واقعات کے ذمہ دار دوسروں کو اخلاقیات کا درس دینے کا حق نہیں رکھتے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان تاریخی، سیاسی اور نظریاتی اختلافات پر بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔ ولایتی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی قیادت اس تنازعے کو محض اسلامی انقلاب یا موجودہ حکومت تک محدود نہیں سمجھتی، بلکہ اسے ایران کی قومی خودمختاری اور تہذیبی شناخت سے بھی جوڑتی ہے۔


