اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدے کے ایک سال بعد بھی غزہ میں امن، تعمیرِ نو اور خوشحالی کے وعدے پورے نہ ہوسکے۔ اسرائیلی حملے تقریباً روزانہ جاری ہیں، حماس کا مستقبل غیر واضح اور لاکھوں فلسطینی خوراک کی شدید قلت سے دوچار ہیں۔ ایک وقت کے کھانے پر گزارا کرنے والے خاندان عالمی وعدوں اور زمینی حقیقت کے درمیان پِس رہے ہیں۔
10 اے ایف پی کی رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 10 اکتوبر 2025 کو غزہ جنگ کے خاتمے کے اعلان کے ایک سال بعد بھی جنگ بندی کے بنیادی مقاصد مکمل طور پر حاصل نہیں ہوسکے۔ یرغمالیوں کی رہائی اور اسرائیل کی جانب سے حملوں میں کمی کے باوجود غزہ میں انسانی بحران، تباہی اور غذائی عدم تحفظ برقرار ہے۔

غزہ پر حملے جاری
معاہدے کے تحت اسرائیلی حملوں میں کمی ضرور آئی، لیکن غزہ پر تقریباً روزانہ حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رکا۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، جنگ بندی کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں تقریباً 1450 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔
اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق امن معاہدے کی شرائط میں اسرائیلی فوج کو غزہ کے 53 فیصد علاقے میں رہنے کی اجازت تھی، تاہم ایک سال بعد اسرائیل کا کنٹرول تقریباً 70 فیصد علاقے تک پہنچ چکا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے 7 اکتوبر کے حملے میں ملوث افراد کو ہلاک کرنے کا عزم بھی دہرایا ہے۔ دوسری جانب، حماس کے راکٹ حملے بند ہونے کے باعث اسرائیل کو غزہ کی جانب سے ایک سال تک راکٹ حملوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
یرغمالیوں کی رہائی، مگر امن کی منزل اب بھی دور
امن معاہدے کے اعلان کے تین روز بعد حماس نے 7 اکتوبر 2023 کے حملے میں یرغمال بنائے گئے باقی 20 زندہ یرغمالیوں کو رہا کردیا تھا۔ یرغمالیوں کی واپسی اسرائیل کے لیے جنگ بندی کی اہم ترجیحات میں شامل تھی۔

تاہم، اس پیش رفت کے باوجود مستقل امن، اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا اور غزہ کے سیاسی مستقبل سے متعلق معاملات اب تک حل طلب ہیں۔
حماس کا مستقبل
جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے میں غزہ کے انتظامی ڈھانچے کو حماس سے الگ کرنے اور ایک نئی انتظامیہ قائم کرنے کا منصوبہ شامل تھا۔
علی شعث کو غزہ کی انتظامیہ کے لیے قائم نیشنل کمیٹی برائے انتظامِ غزہ (این سی اے جی) کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ حماس نے بھی جولائی میں اعلان کیا تھا کہ وہ اپنا حکومتی ڈھانچہ ختم کرکے انتظامی ذمہ داریاں اس کمیٹی کے حوالے کردے گی۔
لیکن اے ایف پی کے مطابق، عملی طور پر حماس اب بھی غزہ میں سکیورٹی کے معاملات پر اثرانداز ہے، جبکہ نئی انتظامیہ کا کردار محدود دکھائی دیتا ہے۔
حماس نے اپنے نئے رہنما خلیل الحیہ کے انتخاب کے بعد ہتھیار چھوڑنے کا اعلان بھی کیا تھا، جسے صدر ٹرمپ نے اہم پیش رفت قرار دیا۔ تاہم، حماس کی جانب سے غیر مسلح ہونے پر عملی پیش رفت نہیں ہوئی، جبکہ اسرائیل تمام ہتھیاروں کی قابلِ تصدیق تلفی کا مطالبہ کررہا ہے۔
نتیجتاً، اسرائیلی فوج کے انخلا اور حماس کے غیر مسلح ہونے سے متعلق معاملات تعطل کا شکار ہیں۔
اربوں ڈالر کے وعدے، مگر کچھ نہیں بدلا
غزہ کی تباہ شدہ عمارتوں، سڑکوں، رہائشی علاقوں اور بنیادی سہولتوں کی بحالی کے لیے بڑے مالی وعدے کیے گئے، لیکن عملی تعمیرِ نو تاحال شروع نہیں ہوسکی۔
صدر ٹرمپ نے جنوری 2026 میں اپنے زیرِ انتظام بورڈ آف پیس کے لیے امریکی فنڈنگ کی مد میں 10 ارب ڈالر دینے کا اعلان کیا تھا۔ خلیجی ممالک نے بھی مزید مالی معاونت کے وعدے کیے۔
ستمبر میں بورڈ آف پیس نے غزہ کی بحالی کے لیے 2.45 ارب ڈالر کا منصوبہ پیش کیا، جس کا ابتدائی دورانیہ چھ ماہ سے زیادہ رکھنے کی تجویز تھی۔
تاہم، اے ایف پی کے مطابق، اب تک ایسی کسی رقم کی تصدیق نہیں ہوسکی جو غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے عملی طور پر وہاں پہنچ چکی ہو۔
غزہ میں بھوک کا راج، دس افراد کا خاندان صرف ایک وقت کھانے پر مجبور
غزہ میں جنگ بندی کے بعد خوراک کی فراہمی بہتر ہونے کی توقع تھی، لیکن لاکھوں افراد اب بھی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ خان یونس میں رہنے والی 35 سالہ فلسطینی خاتون نہایا المصری کی کہانی اس بحران کی ایک دردناک تصویر پیش کرتی ہے۔

نہایا اپنے آٹھ بچوں اور زخمی شوہر سمیت دس افراد کے خاندان کے لیے کھانا حاصل کرنے کی خاطر روزانہ چھ گھنٹے یا اس سے زیادہ وقت کمیونٹی کچن کی قطار میں گزارتی ہیں۔
وہ جب کھانا لے کر واپس آتی ہیں تو خاندان کے لیے چاول، دال اور تھوڑا سا مرغی کا گوشت ہوتا ہے۔ یہی ان کے پورے دن کی واحد خوراک بنتی ہے۔ نہ ناشتے کا انتظام ہوتا ہے اور نہ رات کے کھانے کی امید۔
ان کے شوہر فضائی حملے میں دونوں ٹانگوں سے زخمی ہوئے تھے، جس کے باعث وہ خود خوراک کے حصول کے لیے باہر نہیں جاسکتے۔
نہایا کے مطابق، اگر انسانی امدادی اداروں کے زیرِ انتظام کمیونٹی کچن نہ ہو تو ان کے خاندان کے پاس کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہوگا۔
خوراک کی شدید قلت
اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے مطابق، جولائی 2026 کے تازہ ترین دستیاب اعدادوشمار میں غزہ کی تقریباً 21 لاکھ آبادی میں سے 14 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار تھے۔ ان میں سے دو لاکھ افراد قحط کی انتہائی سنگین سطح سے صرف ایک قدم دور تھے۔

اگست 2025 میں اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ مربوط غذائی تحفظ مرحلہ جاتی درجہ بندی نظام (آئی پی سی) نے غزہ میں قحط کی صورتِ حال کا اعلان کیا تھا۔ دسمبر میں اقوام متحدہ نے کہا کہ جنگ بندی کے دوران دو ماہ تک امدادی سامان کی مناسب آمد سے حالات میں بہتری آئی ہے، جس کے بعد قحط کا اعلان واپس لے لیا گیا۔
اسرائیلی ادارے کوگاٹ نے غزہ کی انسانی صورتِ حال کو مستحکم قرار دیا، تاہم عالمی خوراک پروگرام کے نمائندے شان ہیوز کے مطابق، خوراک کی صورتِ حال اب بھی انتہائی تشویش ناک ہے۔

بچوں کی صحت بھی خطرے میں
غزہ میں خوراک کی فراہمی کے باوجود غذائیت سے بھرپور اشیا کی کمی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ آٹا، روٹی اور خشک غذائی اجناس زندگی برقرار رکھنے کے لیے کافی نہیں، کیونکہ بچوں، حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کو پروٹین، تازہ پھلوں اور سبزیوں سمیت ضروری غذائی اجزا بھی درکار ہوتے ہیں۔
خان یونس کے ناصر اسپتال میں غذائی قلت کے شعبے کی سربراہ اسراء النجار نے اے ایف پی کو بتایا کہ غذائی قلت سے منسلک بیماریوں اور طبی پیچیدگیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق، بار بار شدید غذائی قلت کا شکار ہونے والے بچوں کی جسمانی نشوونما، قوتِ مدافعت اور ذہنی صلاحیتیں طویل عرصے تک متاثر رہ سکتی ہیں۔
میڈیسنز ڈو مونڈ کی جمعرات کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ غزہ میں حاملہ یا دودھ پلانے والی 93 فیصد خواتین میں خون کی کمی کی علامات پائی گئیں، جبکہ صرف 17 فیصد خواتین کی خوراک ان کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی متنوع تھی۔
خیمے مضبوط بنانے کے لیے کچرا
نہایا المصری کے بچوں کی عمریں تین سے 14 سال کے درمیان ہیں۔ ان کے بچے پھل کھانے کے خواب دیکھتے ہیں، مگر خاندان کی مالی حالت انہیں یہ بنیادی غذا خریدنے کی اجازت نہیں دیتی۔
ان کے ایک بیٹے کو 2025 کے قحط کے دوران غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اگرچہ اس کی حالت میں بتدریج بہتری آئی ہے، لیکن خاندان کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔

خیمے کی خستہ حالت بہتر بنانے کے لیے بچے پلاسٹک کی چادروں، گتے اور فوم کے ٹکڑے جمع کرتے ہیں تاکہ بارش، گرمی اور دیگر مشکلات سے کسی حد تک بچ سکیں۔
نہایا المصری نے اپنے بچوں کی حالت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ شرم ناک ہے کہ ان کے بچوں کو ایسی زندگی گزارنا پڑ رہی ہے۔ یہ معمول کی بات نہیں۔
جنگ بندی کا امتحان جاری
غزہ میں جنگ بندی کے ایک سال بعد صورتِ حال یہ سوال اٹھا رہی ہے کہ کیا محض حملوں میں کمی کو امن کہا جاسکتا ہے، جب لوگ اپنے گھروں سے محروم، بچے غذائی قلت کا شکار اور تعمیرِ نو کے وعدے عملی اقدامات کے منتظر ہوں؟
یرغمالیوں کی رہائی اور راکٹ حملوں کا خاتمہ اہم پیش رفت ضرور ہیں، لیکن مستقل امن کے لیے اسرائیلی فوج کے انخلا، سیاسی انتظام کی وضاحت، انسانی امداد کی بلاتعطل فراہمی اور تعمیرِ نو کے لیے وعدہ شدہ وسائل کا عملی استعمال ناگزیر ہے۔


