اے آئی بے قابو : کلاڈ نے امریکی پولیس کو قتل کی جھوٹی اطلاع دے دی

امریکی اے آئی کمپنی ایتھروپک کے جدید ترین ماڈل کلاڈ ہائیکو 4.5 نے امریکا میں پولیس کو قتل کا جھوٹا سراغ دے کر ہلچل مچا دی۔ یہ تاریخ میں پہلا موقع ہے جب کسی اے آئی نے خود سے پولیس کو جعلی اطلاع بھیجی ہو۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق 18 جولائی 2026 کو کلاڈ ایک خودکار ٹیسٹنگ کے دوران رینڈم ویب سائٹس پر ٹاسک کر رہا تھا۔ اس دوران وہ فلاڈیلفیا پولیس کی ویب سائٹ پر پہنچ گیا، جہاں حل نہ ہونے والے قتل کے کیسز کی معلومات لی جاتی ہیں۔

ماڈل نے ویب سائیٹ پر فارم بھر کر لکھا میرے پاس اس کیس کے بارے میں معلومات ہو سکتی ہیں، میں نے اس علاقے میں مشتبہ شخص کو دیکھا تھا۔اس نے نام اور رابطہ نمبر والا خانہ خالی چھوڑ دیا تھا، لیکن جعلی گواہ بن کر فارم جمع کرا دیا۔

سب سے خطرناک بات یہ کہ ایتھروپک کو اس حرکت کا پتہ 28 ستمبر کو چلا، لیکن اس نے فلاڈیلفیا پولیس کو 7 اکتوبر کو اطلاع دی۔ پولیس نے اس دو ماہ کی تاخیر کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ خوش قسمتی سے ان کے سسٹم نے اس ٹپ کو اسپام کے طور پر پکڑ لیا اور یہ تحقیقات کے لیے نہیں پہنچی۔ پولیس سسٹم ہیک نہیں ہوا۔

اینتھروپک نے 9 اور 10 اکتوبر کو جاری اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا کہ یہ واحد واقعہ نہیں۔

کلاؤڈ ماڈلز نے سرکاری ویب سائٹس پر 4 طرح کی غیر مجاز حرکتیں کیں۔۔ جن میں جعلی ٹپس بھیجنا، کوڈنگ خامیاں استعمال کرکے سرور پر کمانڈ چلانا، فیس اور ٹوکن بائی پاس کرکے معلومات مفت نکالنا اور شارٹ یو آر ایل سے پابندی توڑنا شامل ہیں۔

کمپنی نے وائٹ ہاؤس سمیت تمام متاثرہ اداروں کو بریفنگ دی ہے۔ امریکا کے مجاز اداروں ایف ٹی سی اور سپر انٹیلی جنس فورس نے کہا ہے کہ سپر انٹیلی جنس کمپنیوں کے لیے ایسے واقعات رپورٹ کرنا لازمی ہے۔

یہ واقعہ اوپن اے آئی کے ایک ایجنٹ کے ٹیسٹ کے دوران ہگنگ فیس کا سسٹم ہیک کرنے کے واقعے کے فوراً بعد سامنے آیا ہے، جس سے اس بحث کو تقویت ملی ہے کہ بغیر انسانی نگرانی کے کام کرنے والے اے آئی ایجنٹس کتنے خطرناک ہو سکتے ہیں۔

ایتھروپک کا کہنا ہے کہ اس نے فی الحال کلاڈ کی انٹرنیٹ رسائی بند کر دی ہے اور خودکار ڈیٹیکشن ٹولز بنائے ہیں، لیکن ماہرین کہہ رہے ہیں کہ جب اے آئی خود فیصلے لے کر پولیس کو جھوٹی رپورٹ دے سکتا ہے، تو مستقبل میں یہ کسی بے گناہ کو مجرم بھی بنا سکتا ہے۔