نئی دہلی: بھارتی عدالت نے بالی ووڈ کے شہنشاہ امیتابھ بچن کے پرسنیلٹی رائٹس کیس میں ذاتی طور پر طلب کرلیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق امیتابھ بچن نے 2022 میں اپنی آواز، نام، تصویر اور شخصیت سے جڑی دیگر شناختی خصوصیات کے غیر مجاز تجارتی استعمال کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ ان کی شناخت کو جعلی کون بنے گا کروڑ پتی لاٹری اسکیموں، واٹس ایپ پیغامات، موبائل ایپس اور دیگر آن لائن سرگرمیوں میں استعمال کیا جارہا ہے۔
نومبر 2022 میں عدالت نے عبوری حکم جاری کرتے ہوئے ان کی شناخت کے غیر مجاز استعمال کے خلاف تحفظ فراہم کیا تھا۔ متعلقہ سرکاری اداروں اور ٹیلی کام کمپنیوں کو مشتبہ ویب سائٹس، لنکس اور فون نمبرز کے خلاف کارروائی کی ہدایات بھی دی گئی تھیں۔
دہلی ہائی کورٹ نے امیتابھ بچن کو ہدایت کی ہے کہ اگر وہ اپنے پرسنیلٹی رائٹس کے مقدمے کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں اور فریقین کے ساتھ سمجھوتہ مکمل نہیں ہوتا تو انہیں آئندہ سماعت پر خود عدالت میں پیش ہونا ہوگا۔ عدالت نے سمجھوتے کی قانونی کارروائی مکمل کرنے کے لیے 16 نومبر 2026 تک کی مہلت دی ہے۔
امیتابھ بچن کی ذاتی پیشی سے متعلق ہدایت مشروط ہے۔ عدالت نے انہیں ہر صورت فوری طور پر پیش ہونے کا حکم نہیں دیا، بلکہ سمجھوتہ مکمل نہ ہونے اور مقدمہ جاری رکھنے کی صورت میں آئندہ سماعت پر پیشی ضروری قرار دی ہے۔
جسٹس پرشیندر کمار کورَو نے واضح کیا کہ اگر ایک یا زیادہ فریقین کے ساتھ تصفیہ نہیں ہوتا یا سمجھوتہ نامکمل رہتا ہے تو مقدمے کی مزید پیروی کے لیے امیتابھ بچن کی ذاتی موجودگی ضروری ہوگی۔
صرف امیتابھ بچن ہی نہیں بلکہ ان کے خاندان کے دیگر افراد بھی اپنی شناخت کے تحفظ کے لیے عدالتوں سے رجوع کرچکے ہیں۔ ایشوریا رائے بچن، ابھیشیک بچن اور جیا بچن نے بھی مبینہ طور پر تصاویر، آواز، نام اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ گمراہ کن مواد کے غیر مجاز استعمال کے خلاف قانونی کارروائی کی درخواستیں دائر کی تھیں۔


