شدید موسمی اثرات نے خطرے کی گھنٹی بجادی: 2027 میں گرمی کا نیا ریکارڈ بننے کا امکان

پوری دنیا اس وقت بحرالکاہل میں بننے والے شدید موسمی کیفیت ال نینو جھیل رہی ہے۔ ستمبر میں سمندر کی سطح کا اوسط درجہ حرارت 29.70 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے، عالمی اوسط سمندری درجہ حرارت نے بھی ریکارڈ توڑ دیا ماہرین کے مطابق 2027 میں دنیا کو گرمی کی نئی انتہا کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے اثرات کے درمیان بحرالکاہل میں ال نینو کی شدت غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہے، جس کے باعث سمندر کی سطح کا درجہ حرارت ایک اہم نگرانی والے خطے میں ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔ یورپی یونین کی موسمیاتی سروس کوپرنیکس کے مطابق ستمبر میں بحرالکاہل کے نینو 3.4 خطے میں سمندری سطح کا درجہ حرارت 29.70 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو اس خطے میں اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ال نینو کی شدت میں مزید اضافہ دنیا بھر میں موسم کے معمولات کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بعض علاقوں میں شدید خشک سالی، جبکہ دیگر خطوں میں غیر معمولی بارشوں اور سیلاب کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ عالمی درجہ حرارت میں پہلے ہی اضافے کے باعث اس موسمیاتی رجحان کے اثرات مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔

فرانسیسی نیوز ویب سائیٹ فرانس 24 کے مطابق عالمی موسمیاتی ماہرین کئی ماہ سے خبردار کر رہے ہیں کہ موجودہ ال نینو اس سال کے اختتام تک ریکارڈ کیے گئے طاقتور ترین واقعات میں شامل ہو سکتا ہے۔ تاہم کوپرنیکس نے واضح کیا ہے کہ ستمبر کے ریکارڈ درجہ حرارت کے باوجود ابھی یہ حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ موجودہ ال نینو تاریخ کا سب سے طاقتور واقعہ ہے۔

کوپرنیکس کے مطابق بحرالکاہل کے نینو 3.4 خطے میں ستمبر کے دوران ریکارڈ کیا گیا درجہ حرارت 1982-83، 1997-98 اور 2015-16 کے طاقتور ال نینو واقعات میں دیکھی گئی بلند ترین سطحوں سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔

یہ اعداد و شمار موجودہ ال نینو کی غیر معمولی شدت کی نشاندہی کرتے ہیں، خصوصاً اس لیے کہ موسمیاتی رجحان کی متوقع انتہا ابھی آنا باقی ہے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث سمندروں کا بنیادی درجہ حرارت پہلے ہی بڑھ چکا ہے۔ اس لیے موجودہ دور کے درجہ حرارت کا ماضی کے واقعات سے براہ راست موازنہ کرتے ہوئے اس اضافی گرمی کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

کوپرنیکس نے اسی مقصد کے لیے ایک نیا اشاریہ اختیار کیا ہے جو بحرالکاہل کے گرم ہوتے پانیوں کو حساب میں شامل کرتا ہے۔ اس اشاریے کے مطابق موجودہ ال نینو کو ابھی تک ماضی کے تمام واقعات سے زیادہ طاقتور قرار نہیں دیا جا سکتا۔

جاپان کے محکمہ موسمیات نے بھی جمعے کو کہا تھا کہ ال نینو کی شدت اس کے ریکارڈ میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جبکہ متعلقہ نگرانی والے خطے کا درجہ حرارت معمول سے تقریباً چار ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ تھا۔ مختلف اداروں کے نتائج میں فرق کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ تمام ماہرین ال نینو کی شدت جانچنے کے لیے ایک ہی پیمانہ استعمال نہیں کرتے۔

سمندروں کی گرمی کا بھی نیا ریکارڈ

ال نینو کی شدت میں اضافے کے ساتھ عالمی سطح پر سمندری درجہ حرارت بھی نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔

کوپرنیکس کے مطابق ستمبر میں دنیا بھر میں سمندر کی سطح کا اوسط درجہ حرارت 21.05 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو ستمبر 2023 کے سابقہ ریکارڈ 20.92 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہے۔

اسی دوران ستمبر دنیا کا ریکارڈ پر دوسرا گرم ترین ستمبر بھی رہا۔ عالمی سطح پر زمین کے قریب ہوا کا اوسط درجہ حرارت 16.27 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو صنعتی دور سے پہلے کے اوسط درجہ حرارت سے 1.63 ڈگری زیادہ تھا۔

صنعتی دور سے پہلے کا عرصہ عموماً 1850 سے 1900 تک شمار کیا جاتا ہے، جسے عالمی حدت میں اضافے کا موازنہ کرنے کے لیے بنیادی پیمانہ بنایا جاتا ہے۔

پیرس معاہدے کا ہدف خطرے میں

سال 2015 میں پیرس میں ہونے والے اقوام متحدہ کے موسمیاتی اجلاس میں ممالک نے عالمی حدت کو صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں دو ڈگری سینٹی گریڈ سے کافی نیچے رکھنے اور اسے 1.5 ڈگری تک محدود کرنے کی کوششوں پر اتفاق کیا تھا۔

تاہم اقوام متحدہ نے ستمبر میں خبردار کیا تھا کہ طویل مدتی بنیاد پر 1.5 ڈگری کی حد برقرار رکھنا آنے والے برسوں میں ممکن نہیں رہے گا۔

کوپرنیکس کے ڈائریکٹر کارلو بونتیمپو کے مطابق دنیا مسلسل ایسے مہینوں کے دور میں داخل ہو چکی ہے جن میں درجہ حرارت 1.5 ڈگری کی حد سے زیادہ رہا ہے، اور مضبوط ہوتا ال نینو اس رجحان کو 2027 تک برقرار رکھ سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیرس معاہدے کی طویل مدتی حد سے تجاوز اب وقت کا معاملہ بنتا جا رہا ہے، تاہم یہ فیصلہ اب بھی انسانوں کے ہاتھ میں ہے کہ درجہ حرارت اس حد سے کتنا اوپر جاتا ہے اور کتنی دیر تک بلند رہتا ہے۔

ماہرین کے مطابق فوسل فیول، یعنی کوئلے، تیل اور گیس کے استعمال سے پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانا ضروری ہے، تاکہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو محدود کیا جا سکے اور حد سے تجاوز کے دورانیے کو جلد از جلد کم کیا جا سکے۔

ال نینو کیا ہے

ال نینو بحرالکاہل کے استوائی خطے میں قدرتی موسمیاتی چکر کا گرم مرحلہ ہے۔ اس دوران وسطی اور مشرقی استوائی بحرالکاہل کے پانی معمول سے زیادہ گرم ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں ہواؤں، فضائی دباؤ اور بارشوں کے عالمی نظام میں تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔

یہ تبدیلیاں دنیا کے مختلف خطوں میں مختلف انداز سے اثر انداز ہوتی ہیں۔ کہیں بارشوں میں کمی اور خشک سالی کا خطرہ بڑھتا ہے، تو کہیں شدید بارشیں اور سیلاب زیادہ تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ ال نینو عموماً ہر دو سے سات سال کے وقفے سے نمودار ہوتا ہے اور تقریباً نو سے بارہ ماہ تک جاری رہ سکتا ہے۔

موجودہ ال نینو کے بارے میں ماہرین کی تشویش اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ عالمی سمندر پہلے ہی غیر معمولی طور پر گرم ہیں۔ پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ اس موسمیاتی رجحان کے باعث 2027 میں عالمی درجہ حرارت ایک نیا ریکارڈ قائم کر سکتا ہے۔

موسمیاتی ماہرین کے مطابق ال نینو ایک قدرتی عمل ہے، لیکن انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی عالمی حدت اس کے اثرات کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ اس لیے آنے والے مہینوں میں درجہ حرارت، بارشوں اور سمندری حالات کی مسلسل نگرانی اہم ہوگی، جبکہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی طویل مدتی خطرات کو محدود کرنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔