لندن: انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان جون میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ کے دوران تنقید کی زد میں آنے والی تاریخی لارڈز کی پچ کو دوبارہ تعمیر کیا جا رہا ہے، جس کے باعث یہ میدان کی پچ کم از کم آئندہ دو سیزن تک بین الاقوامی مقابلوں کے لیے دستیاب نہیں ہوگی۔
لارڈز کی پانچ مرکزی پچز میں شامل پچ نمبر 9 کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے پہلی مرتبہ ’غیر تسلی بخش‘ قرار دیا گیا تھا۔ انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان ٹیسٹ میں غیر معمولی سیم موومنٹ اور گیند کے غیر متوقع طور پر اچھلنے کی شکایات سامنے آئی تھیں۔
اس ٹیسٹ میچ میں صرف 166 اوورز کے اندر دونوں ٹیموں کے تمام 40 وکٹیں گر گئی تھیں، جبکہ 24 بلے باز بولڈ یا ایل بی ڈبلیو ہوئے۔ میچ کے بعد آئی سی سی کے میچ ریفری اینڈی پائکرافٹ نے پچ کا جائزہ لیتے ہوئے اسے غیر تسلی بخش قرار دیا، جس کے نتیجے میں لارڈز کو آئی سی سی کی جانب سے پہلی مرتبہ ڈی میرٹ پوائنٹ ملا۔
واقعے کے بعد میریلیبون کرکٹ کلب (ایم سی سی) کے چیئرمین مارک نکولس نے پچ کی تیاری اور گراؤنڈ کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے سات نکاتی منصوبہ تشکیل دیا۔ اس کے بعد ایم سی سی کے ڈائریکٹر کرکٹ اینڈ آپریشنز روب لنچ اور گراؤنڈ اسٹاف نے ماہرین سے مشاورت کی، ڈیٹا کا تجزیہ کرایا اور لارڈز کی پچز کی تیاری کے طریقہ کار کا تفصیلی جائزہ شروع کیا۔
ایم سی سی کے مطابق پچ نمبر 9 کی تعمیر نو کا کام رواں ماہ شروع کردیا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت اسے مکمل طور پر نئے سرے سے تیار کیا جائے گا، جس کے باعث یہ پچ آئندہ دو یا تین سیزن تک استعمال نہیں ہوسکے گی۔
مارک نکولس نے کلب کے ارکان کو بھیجے گئے پیغام میں کہا کہ اس منصوبے کا مقصد ایسی پچز تیار کرنا ہے جو لارڈز کی عالمی شہرت اور تاریخی مقام کے شایانِ شان ہوں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ پچ نمبر 9 کی عدم دستیابی کے باعث آنے والے برسوں میں میچوں کے شیڈول میں تبدیلیاں کرنا پڑ سکتی ہیں۔
بڑے میچوں کے لیے تیاری کا وقت بڑھانے کا منصوبہ
پچ نمبر 9 کی بندش کے علاوہ لارڈز میں بڑے بین الاقوامی مقابلوں، خصوصاً ایشز ٹیسٹ جیسے اہم میچوں سے قبل گراؤنڈ اسٹاف کو پچ تیار کرنے کے لیے زیادہ وقت دینے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔
اس کے نتیجے میں بعض چھوٹے یا تفریحی نوعیت کے میچز لارڈز کے بجائے سر پال گیٹی کے گراؤنڈ، ورمزلی منتقل کیے جاسکتے ہیں۔ ایم سی سی اس مقام کو مستقبل میں لارڈز کے شراکت دار وینیو کے طور پر استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم حتمی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔
ایم سی سی طویل المدتی حکمت عملی کے تحت ہائبرڈ اور مستقل ڈراپ اِن پچز بھی متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ موسم بہار میں ایک تیسری ہائبرڈ پچ تیار کی جائے گی، جس میں تقریباً 95 فیصد قدرتی گھاس اور 5 فیصد مصنوعی ریشہ ہوگا۔
ہائبرڈ پچز اس وقت ٹیسٹ میچز کے لیے قابل قبول نہیں، تاہم مخصوص حالات میں دونوں ٹیموں اور آئی سی سی کی رضامندی سے محدود اوورز کے بین الاقوامی مقابلوں کے لیے استعمال کی جاسکتی ہیں۔ انگلینڈ کی ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی ان پچز کا استعمال عام ہے۔
ایم سی سی کے مطابق ہائبرڈ پچز کا ایک فائدہ یہ ہے کہ ان پر کھیل کے دوران کارکردگی نسبتاً زیادہ مستقل رہتی ہے اور استعمال کے بعد انہیں دوبارہ کھیل کے قابل بنانے میں روایتی پچ کے مقابلے میں کم وقت درکار ہوسکتا ہے۔
ڈراپ اِن پچز کا منصوبہ
لارڈز میں تین ڈراپ اِن ٹرے بھی تیار کی جا رہی ہیں۔ ان میں سے پہلی کو 2028 میں مین اسکوائر میں منتقل کیے جانے کا منصوبہ ہے۔ یہ مستقل بنیادوں پر نصب کی جائیں گی اور آسٹریلیا کے ملٹی پرپز میدانوں میں استعمال ہونے والی ان ڈراپ اِن پچز سے مختلف ہوں گی جنہیں ہر سیزن کے مطابق نکالا اور تبدیل کیا جاتا ہے۔
لارڈز کو 2031 تک ہر سال دو مردوں کے ٹیسٹ میچز کی میزبانی کرنی ہے۔ اگلے سال انگلینڈ اور بنگلہ دیش کے درمیان 28 مئی سے یکم جون جبکہ انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان 30 جون سے 4 جولائی تک ٹیسٹ لارڈز میں کھیلا جائے گا۔
تاہم 2027 ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل لارڈز میں نہیں ہوگا، کیونکہ آئی سی سی نے اس اہم مقابلے کے لیے دی اوول کو میزبان میدان مقرر کیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ رواں موسم گرما میں لارڈز میں کھیلے گئے دیگر ٹیسٹ میچز کی پچز کو ’تسلی بخش‘ قرار دیا گیا تھا، جن میں انگلینڈ ویمن اور بھارت کا میچ اور انگلینڈ مینز اور پاکستان کا ٹیسٹ شامل تھا۔ لارڈز میں کھیلے گئے چار محدود اوورز کے بین الاقوامی میچز کی پچز کو بھی ’بہت اچھی‘ ریٹنگ دی گئی۔
یوں پچ نمبر 9 کے معاملے نے لارڈز میں پچ کی تیاری کے پورے نظام پر نظرثانی کی راہ ہموار کردی ہے، جبکہ ایم سی سی اب روایتی پچز کے ساتھ ہائبرڈ اور مستقل ڈراپ اِن ٹیکنالوجی کو بھی اپنے مستقبل کے گراؤنڈ پلان کا حصہ بنا رہا ہے۔


