واشنگٹن: امریکی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ اوپن اے آئی کے ہیڈکوارٹر میں خفیہ طور پر گفتگو سننے کے لیے ڈیوائس نصب کرنے کے کیس میں گرفتار سعودی شہری نے گرفتاری سے قبل سعودی عرب جانے کے لیے یک طرفہ پرواز کا ٹکٹ بک کرایا تھا۔
امریکی پراسیکیوٹرز کے مطابق عبدالرحمن الفوزان نامی 35 سالہ سابق اوپن اے آئی انجینئر نے اپنی اہلیہ اور خاندان کے ایک اور فرد کے ساتھ 12 اکتوبر کو سعودی عرب روانہ ہونے کے لیے ٹکٹ بک کرائی تھی۔ یہ انکشاف عدالت میں جمع کرائی گئی ایک درخواست میں کیا گیا، جسے بدھ کے روز منظر عام پر لایا گیا۔
امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے الفوزان کو 9 اکتوبر کو گرفتار کیا تھا۔ حکام کے مطابق اوپن اے آئی کے عملے نے کمپنی کے سان فرانسسکو ہیڈکوارٹرز کے ایک کانفرنس روم میں ایک چھپی ہوئی سننے والی ڈیوائس دریافت کی تھی، جس کے بعد معاملے کی اطلاع حکام کو دی گئی۔
پراسیکیوٹرز کا الزام ہے کہ الفوزان نے زبانی گفتگو کو انٹرسیپٹ کرنے کے لیے ایک الیکٹرانک یا مکینیکل ڈیوائس استعمال کی یا ایسا کرنے کی کوشش کی۔ اس جرم میں امریکی قانون کے تحت زیادہ سے زیادہ 5 سال قید اور 250 ہزار ڈالر جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔
حکام نے عدالت سے ابتدائی کارروائی کے دوران فوجداری شکایت کو خفیہ رکھنے کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ سعودی عرب کے لیے مبینہ یک طرفہ سفری بکنگ اس خدشے کو تقویت دیتی ہے کہ الفوزان کے پاس امریکا سے فرار ہونے کے وسائل اور اس کی ترغیب موجود ہوسکتی ہے۔
تاہم الفوزان کے وکیل ولیم پرنک نے الزامات کو چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے مؤکل اور دفاعی ٹیم عدالت میں فوجداری الزامات اور حراست دونوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔
وکیل کے مطابق الفوزان ایک قابلِ احترام پیشہ ور ہیں اور امریکی معاشرے سے ان کے دیرینہ تعلقات ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کے مؤکل کو اس وقت تک بے گناہ تصور کیا جانا چاہیے جب تک عدالت میں جرم ثابت نہ ہوجائے۔ وکیل نے سعودی شہری ہونے کو مبینہ طور پر پرواز کے خطرے سے جوڑنے پر بھی اعتراض کیا۔
فوزان نے گزشتہ سال جولائی میں اوپن اے آئی میں شمولیت اختیار کی تھی اور گرفتاری سے تقریباً ایک ہفتہ قبل ان کی ملازمت ختم کردی گئی تھی۔ اس سے قبل وہ میٹا میں سسٹمز انجینئر کے طور پر کام کرچکے ہیں جبکہ مائیکروسافٹ میں بھی انٹرن شپ کرچکے ہیں۔
وہ ریاض میں قائم وینچر کیپیٹل فرم راعد وینچرز کے وینچر پارٹنر کے طور پر بھی درج ہیں۔ کمپنی کے مطابق ان کی ذمہ داریوں میں ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپس اور سرمایہ کاری کے ممکنہ مواقع کی نشاندہی شامل تھی۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مصنوعی ذہانت کی جدید ٹیکنالوجی تیار کرنے والی کمپنیوں کے درمیان عالمی مسابقت تیز ہے۔ اوپن اے آئی سمیت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حساس نظام، تحقیق اور تجارتی معلومات صنعتی جاسوسی اور دیگر سیکیورٹی خدشات کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔


