واشنگٹن/برسلز: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کی توانائی آمدنی کو نشانہ بنانے والی وسیع پابندیوں اور محصولات کو عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کیا ہے، جسے انہوں نے امریکا کے قومی مفاد میں قرار دیا ہے۔ اس اقدام کے بعد واشنگٹن اور کیف کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات مزید خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، جبکہ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے یورپی رہنماؤں سے جنگ جاری رکھنے کے لیے مزید مالی اور فوجی مدد کی اپیل کی ہے۔
فرانس 24 کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں، جس کے ذریعے روس کی توانائی آمدنی کو نشانہ بنانے والی وسیع امریکی پابندیوں اور محصولات سے عارضی استثنا دیا گیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس یوکرین پر حملوں میں شدت لا رہا ہے اور کیف کو موسم سرما سے قبل اپنے دفاعی نظام اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو محفوظ بنانے کے لیے اضافی وسائل درکار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر کا یہ فیصلہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ایک معاہدے کے بعد سامنے آیا، جس کے تحت روس عالمی منڈی میں ڈیزل کی بڑی مقدار فراہم کرے گا، جبکہ امریکا روس پر بعض پابندیوں میں نرمی کرے گا۔ اس اقدام کا مقصد ایندھن کی قیمتوں کو کم کرنے میں مدد دینا بتایا گیا ہے۔
روس کے صدارتی ایلچی کیرل دمتریئیف نے امریکی فیصلے کو ایک اہم اور تاریخی لمحہ قرار دیا۔ دوسری جانب، یوکرین کے صدر زیلنسکی نے یورپی رہنماؤں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روس کے خلاف پابندیاں برقرار رکھیں اور کیف کی مالی و دفاعی مدد میں اضافہ کریں۔
ٹرمپ اور زیلنسکی کے تعلقات میں تناؤ
امریکی صدر اور یوکرینی قیادت کے درمیان اختلافات اس وقت مزید نمایاں ہوئے جب زیلنسکی نے یوکرینی افواج کو روسی آئل ریفائنریوں پر حملے دوبارہ شروع کرنے کا حکم دیا۔ اس پر ٹرمپ نے کیف کے اقدامات کو ’شرمناک‘ قرار دیا۔
زیلنسکی نے یورپی رہنماؤں سے ملاقاتوں کے دوران کہا کہ وہ صرف یوکرین اور یوکرینی عوام کے مفادات کا دفاع کر رہے ہیں۔ ان کے موقف کے مطابق، روسی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے یوکرین کو عالمی حمایت کی ضرورت ہے۔
امریکی حمایت میں کمی اور روس پر پابندیاں نرم کیے جانے کے باعث خدشات بڑھ رہے ہیں کہ واشنگٹن ماسکو کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دے رہا ہے۔ یوکرین کے لیے امریکی فراہم کردہ سیٹلائٹ مواصلاتی نظام میں رکاوٹوں نے بھی اس کی دفاعی صلاحیتوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے ان رکاوٹوں میں اپنے کردار کی تردید کی ہے، جبکہ ایک امریکی عہدیدار نے بھی ٹرمپ کی جانب سے مداخلت کی تردید کی۔
یورپ کی یوکرین کو مزید مدد دینے کی یقین دہانی
یورپی رہنماؤں نے زیلنسکی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے روس پر دباؤ برقرار رکھنے اور یوکرین کی مدد بڑھانے پر زور دیا۔ یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے کہا کہ یہ یوکرین کی حمایت سے پیچھے ہٹنے یا روس پر پابندیاں نرم کرنے کا وقت نہیں، بلکہ مدد اور دباؤ میں اضافہ کرنے کا وقت ہے۔
نیدرلینڈز کے وزیر اعظم روب یٹن نے بھی یوکرین کی سنگین صورت حال اور امریکا کے ساتھ اس کے کشیدہ تعلقات پر تشویش کا اظہار کیا۔
زیلنسکی نے یورپی یونین سے مزید پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے اور اگلے سال کے لیے تقریباً 70 ارب یورو، یعنی 79 ارب ڈالر کی اضافی مالی امداد دینے کی اپیل کی ہے۔ ان کا مقصد روسی میزائل حملوں سے دفاع مضبوط بنانا اور جنگی اخراجات پورے کرنا ہے۔
یوکرین کو مالی بحران اور موسم سرما کے چیلنجز کا سامنا
روسی حملوں کے باعث یوکرین کے توانائی نظام، معیشت اور بنیادی سہولتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ یوکرینی حکام کو خدشہ ہے کہ موسم سرما میں درجہ حرارت منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرنے کے دوران بجلی، حرارت اور پانی کی فراہمی مزید متاثر ہوسکتی ہے۔
یورپی یونین پہلے ہی یوکرین کے لیے 90 ارب یورو کے قرض کی قسطیں جاری کر رہی ہے، جس کا مقصد 2027 کے اختتام تک اس کے مالی اخراجات پورے کرنے میں مدد دینا ہے۔ تاہم، یوکرینی حکام کے مطابق، روسی حملوں سے معیشت کو پہنچنے والے نقصان کے باعث ملک کو اب بھی بڑے مالی خسارے کا سامنا ہے۔
مجموعی طور پر روس پر امریکی پابندیوں میں نرمی، واشنگٹن اور کیف کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور یورپ سے اضافی امداد کی درخواست نے یوکرین جنگ کے سفارتی اور معاشی محاذ کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔


