ایلون مسک پھر ٹرمپ کے ساتھ: ٹیکنالوجی سے امریکی سیاست تک دوبارہ مرکز نگاہ بن گئے

واشنگٹن: کبھی خلائی سفر، الیکٹرک گاڑیوں اور جدید ٹیکنالوجی کے خوابوں کو حقیقت کے قریب لانے والا ایلون مسک آج بھی دنیا کو حیران کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن امریکی سیاست میں ان کی بڑھتی مداخلت نے ان کی عالمی ساکھ کو ایک نئی بحث میں دھکیل دیا ہے۔

فرانس 24 کےمطابق کچھ روز قبل ایلون مسک ایک بار پھر خبروں کا مرکز بنے، جب ان کی کمپنی ٹیسلا نے اڑنےوالی گاڑی لانچکی۔ اس کےعلاوہ اسپیس ایکس کا اسٹارشپ میگا راکٹ پہلی مرتبہ مدار تک پہنچا اور 26 اسٹارلنک سیٹلائٹس خلا میں بھیجےگئے۔ یہ کامیابی مسک کے مریخ تک انسان پہنچانے کے طویل المدتی منصوبے کے لیے اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

ٹیکنالوجی کے میدان میں مسک کی کامیابیاں اپنی جگہ، مگر امریکی سیاست میں ان کا کردار اب پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہے۔ سابق ٹوئٹر، موجودہ ایکس، پر ان کی سیاسی سرگرمیوں اور بیانات نے بھی انہیں ٹیکنالوجی کی دنیا سے نکال کر امریکی سیاسی مباحثے کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔

ایلون مسک کی سیاست میں نمایاں آمد اس وقت ہوئی جب وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت کے آغاز میں محکمہ حکومتی کارکردگی یعنی ڈوجی سے وابستہ ہوئے۔ اس دوران حکومت کے اخراجات اور وفاقی اداروں میں بڑے پیمانے پر کٹوتیوں کی مہم چلائی گئی۔

تاہم ٹرمپ اور مسک کا یہ اتحاد زیادہ دیر قائم نہیں رہا۔ دونوں کے درمیان 2025 میں شدید اختلافات پیدا ہوئے اور مسک نے ڈوجی سے علیحدگی اختیار کرلی۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ تعلقات میں دوبارہ بہتری آئی اور حال ہی میں ٹرمپ نے مسک کو امریکا کا اعلیٰ ترین سائنسی اعزاز پیش کرتے ہوئے انہیں قومی خزانہ اور جدید دور کا تھامس ایڈیسن قرار دیا۔

مسک اب امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن امیدواروں کی حمایت میں بھی غیر معمولی رقم خرچ کر رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق وہ کم از کم 276 ملین ڈالر ریپبلکن سیاسی مہمات پر خرچ کر چکے ہیں، جن میں 158 ملین ڈالر ٹیکساس میں ایک بڑی تشہیری مہم کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

یہی سیاسی وابستگی مسک کی سابقہ ’ٹیکنالوجی کے موجد‘ والی شناخت پر بھی اثرانداز ہوئی ہے۔ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ناقدین اب انہیں ایک ایسے ٹیک ارب پتی کے طور پر دیکھتے ہیں جو ٹرمپ اور ریپبلکن سیاست کے قریب آچکے ہیں، جبکہ ان کے حامی اب بھی انہیں مستقبل کی ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا خواب دیکھنے والا سمجھتے ہیں۔

مسک کی زندگی اور شخصیت پر بننے والی چار گھنٹے کی دستاویزی فلم نے بھی اس بحث کو مزید ہوا دی ہے۔ ان کی سابق اہلیہ جسٹن مسک نے ان کی شخصیت کو افراتفری میں کام کرنے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بظاہر غیر معمولی اقدامات کے پیچھے اکثر کوئی نہ کوئی حکمت عملی ضرور ہوتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مسک کی کامیابیوں کا ایک بڑا حصہ خود امریکی حکومت سے جڑا ہوا ہے۔ اسپیس ایکس کو ناسا اور امریکی محکمہ دفاع سے اربوں ڈالر کے معاہدے حاصل ہیں، جبکہ ٹیسلا کی روبوٹیکسی ٹیکنالوجی کا مستقبل بھی امریکی ریگولیٹری فیصلوں سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔

اسی لیے بعض مبصرین کے نزدیک ریپبلکن سیاست پر مسک کی بھاری سرمایہ کاری کو محض سیاسی نظریاتی تبدیلی سمجھنا شاید کافی نہیں۔ ان کے مطابق واشنگٹن میں اثر و رسوخ بڑھانا بھی ان کے کاروباری مفادات اور مستقبل کی ٹیکنالوجی کے منصوبوں کا حصہ ہو سکتا ہے۔

یوں ایلون مسک کی کہانی اب صرف راکٹ، روبوٹیکسی اور مصنوعی ذہانت تک محدود نہیں رہی۔ وہ ایک ایسے مقام پر کھڑے ہیں جہاں ٹیکنالوجی، اربوں ڈالر، سیاست اور اقتدار ایک دوسرے سے جڑ چکے ہیں، اور یہی امتزاج