پاکستان نے امریکا کو اپنی بحری حدود سےایران پر کارروائیوں کی اجازت کی خبریں مسترد کردیں

پاکستان نے ان سوشل میڈیا دعوؤں کو سختی سے مسترد کردیا ہے جن میں یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ امریکی بحریہ پاکستان کی اجازت سے ملک کی سرزمین کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

وزارتِ اطلاعات نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں واضح کیا کہ پاکستان سے متعلق اس نوعیت کی اطلاعات بے بنیاد ہیں۔ وزارت کے مطابق ایک اکاؤنٹ سے سامنے آنے والے دعوے کو بعد ازاں مختلف ذرائع کے ذریعے مزید پھیلایا گیا، جس کے نتیجے میں یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ امریکی بحریہ پاکستان کی حدود سے ایران کے خلاف آپریشنز کر رہی ہے۔

وزارتِ اطلاعات نے اس دعوے کو من گھڑت پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی اطلاعات کا مقصد عوام میں الجھن، غلط فہمی اور بے چینی پیدا کرنا ہے۔ حکومت نے واضح کیا کہ پاکستان کی سرزمین کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال کیے جانے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبریں درست نہیں۔

یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث خطے میں فوجی سرگرمیوں اور ممکنہ کارروائیوں سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہی ہیں۔

دوسری جانب بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر پاکستان نے ایران کے ساتھ سرحدی تجارت بھی عارضی طور پر روک دی ہے۔ ڈپٹی کمشنر چاغی بختیار اسماعیل کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ایران کے ساتھ سرحدی تجارت معطل کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاک ایران سرحد کی بندش مستقل فیصلہ نہیں بلکہ انسداد دہشت گردی کی کوششوں اور سرحدی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے عارضی اقدام ہے۔ بختیار اسماعیل کے مطابق ضروری انتظامات مکمل ہونے کے بعد سرحد دوبارہ کھول دی جائے گی۔

حالیہ پیش رفت کے تناظر میں پاکستان کی جانب سے ایک طرف سرحدی سیکیورٹی اقدامات کیے جا رہے ہیں تو دوسری جانب حکومت نے سوشل میڈیا پر پاکستان کو امریکا ایران تنازع میں براہِ راست فریق بنانے والی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کن دعوؤں سے محتاط رہنے کا عندیہ دیا ہے۔