قطر کا نئی علاقائی دفاعی شراکت داری کا اعلان

دوحا: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خلیجی ممالک کو درپیش سکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر قطر نے نئی علاقائی دفاعی شراکت داری قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کی تیاری بہتر بنانا ہے۔

قطر کے نائب وزیراعظم اور وزیر مملکت برائے دفاعی امور شیخ سعود بن عبدالرحمان آل ثانی نے دوحا میں گلوبل سکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ قطر جلد اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ ایک نئے دفاعی اقدام کی تفصیلات سامنے لائے گا۔ تاہم انہوں نے اس شراکت داری میں شامل ممالک کے نام اور حتمی معاہدے کی تاریخ ظاہر نہیں کی۔

قطری وزیر کے مطابق ملک نے اپنی دفاعی ضروریات کا ازسرِنو جائزہ لیا ہے، جس کے بعد فضائی دفاع، ڈرون حملوں کو روکنے، سائبر سکیورٹی اور الیکٹرانک جنگی صلاحیتوں کو ترجیح دی گئی ہے۔ قطر امریکا، برطانیہ، فرانس اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور مقامی سطح پر دفاعی پیداوار کے امکانات پر بھی کام کررہا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجی تنازع اور خلیجی توانائی تنصیبات کو لاحق خطرات نے علاقائی سلامتی کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ قطر کی اہم گیس تنصیب راس لفان کو بھی رواں سال حملوں کے نتیجے میں نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آچکی ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز میں عدم استحکام نے توانائی کی عالمی ترسیل کو متاثر کیا ہے۔

شیخ سعود بن عبدالرحمان آل ثانی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دفاعی تیاریوں کے ساتھ سفارتی رابطے اور علاقائی مکالمہ ضروری ہیں۔ قطر کے مطابق پاکستان اور عمان کی جانب سے جاری سفارتی کوششیں بھی تنازع کے حل میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں، جبکہ پائیدار امن کے لیے خلیجی ممالک، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان وسیع تر مذاکرات کی ضرورت ہے۔

تاحال نئی دفاعی شراکت داری میں شامل ممالک، اس کے عملی ڈھانچے اور مشترکہ دفاعی ذمہ داریوں کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

تاہم قطر کے اعلان سے واضح ہوتا ہے کہ دوحہ موجودہ علاقائی حالات میں اپنی دفاعی تیاری اور بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دے رہا ہے۔