آسٹریلیا میں شہری نے خاتون رکن اسمبلی پر گاڑی چڑھا دی؛ ہیلن ہینز دونوں پیروں سے محروم

میلبورن : آسٹریلیا کی رکنِ پارلیمنٹ ہیلن ہینز کو ایک مبینہ ٹارگٹڈ حملے میں گاڑی سے ٹکر مارے جانے کے بعد دونوں ٹانگوں سے محروم ہونا پڑا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق ہیلن ہینز 19 اکتوبر کی سہ پہر ریاست وکٹوریہ کے شہر وانگارٹا میں اپنے دفتر کے قریب اپنی گاڑی کے پچھلے حصے کے پاس کھڑی تھیں کہ ایک گاڑی نے انہیں ٹکر مار دی۔ ہیلن ہینز کو فوری طور پر ریاستی دارالحکومت میلبورن کے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زیرِ علاج ہیں۔

ان کے شوہر فل ہینز نے اسپتال کے باہر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اہلیہ زندہ ہیں اور ان کی حالت مستحکم ہے، جو خاندان کے لیے سب سے اہم بات ہے۔

پولیس نے اس واقعے کو ٹارگٹڈ حملہ قرار دیا ہے۔ مبینہ حملہ آور 43 سالہ برینڈن نیوجن وانگارٹا کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق ملزم پر خطرناک ڈرائیونگ کے ذریعے شدید زخمی کرنے، جان بوجھ کر شدید چوٹ پہنچانے اور ایک سرکاری عہدیدار کو نقصان پہنچانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ آخری الزام آسٹریلیا کے وفاقی قانون کے تحت جرم ہے، جس کی زیادہ سے زیادہ سزا 10 سال قید ہو سکتی ہے۔

ملزم پر بھنگ کا پودا کاشت کرنے اور منشیات رکھنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ اس نے ضمانت کی درخواست نہیں دی، جبکہ مقدمے کی اگلی سماعت 4 فروری کو مقرر کی گئی ہے۔

حملے کی وجہ

واقعے کے محرکات تاحال واضح نہیں ہو سکے اور حکام نے تحقیقات مکمل ہونے تک کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے گریز کیا ہے۔

ریاست وکٹوریہ کے پولیس کمشنر مائیک بش نے بدھ کو بتایا کہ تفتیش کار تمام ممکنہ پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں، جن میں یہ امکان بھی شامل ہے کہ ملزم حکومت مخالف شدت پسندانہ خیالات رکھتا ہو۔

ان کے مطابق، پولیس ملزم کی سوشل میڈیا سرگرمیوں اور روابط کا جائزہ لینے کے علاوہ گواہوں، دوستوں اور ساتھیوں سے بھی پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ پولیس کمشنر نے کہا کہ حکام کے پاس حملے سے قبل ملزم کے حوالے سے ایسی کوئی انٹیلی جنس معلومات نہیں تھیں جن سے فوری خطرے کا اندازہ ہوتا۔

آسٹریلوی وفاقی پولیس کی کمشنر کرسّی بیریٹ نے بھی آن لائن شدت پسندانہ خیالات، منتخب نمائندوں کے خلاف دھمکی آمیز بیانات اور ہراسانی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔

سیاسی ماحول میں بڑھتی کشیدگی

اس واقعے نے آسٹریلیا میں سیاسی تشدد کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں منتخب نمائندوں کے خلاف دھمکیوں اور بدسلوکی کے واقعات میں اضافے کی نشاندہی کی جا رہی ہے، اگرچہ سیاسی تشدد کو ملک میں نسبتاً غیر معمولی سمجھا جاتا ہے۔

آسٹریلیا کی گورنر جنرل سیم موسٹن، جو برطانوی بادشاہ چارلس سوم کی سرکاری نمائندہ ہیں، نے واقعے کے بعد معاشرے میں شائستگی، ہمدردی اور ایک دوسرے کے اختلافات برداشت کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیراعظم انتھونی البانیزی نے بھی ہیلن ہینز سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں سیاسی مباحثے زیادہ تلخ اور ذاتی نوعیت کے ہوتے گئے ہیں۔

اے بی سی میلبورن ریڈیو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ دنیا ایک نسل پہلے کے مقابلے میں زیادہ خطرناک اور منقسم ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق، سیاست دانوں کو بھی عام شہریوں کی طرح بلاخوف اپنے روزمرہ کے کام انجام دینے کے قابل ہونا چاہیے۔

شفاف سیاست کے لیے معروف رکنِ پارلیمنٹ

ہیلن ہینز نے نرس اور دائی کے طور پر کام کرنے کے بعد 2019 میں آسٹریلوی پارلیمنٹ میں قدم رکھا۔ وہ سیاست میں شفافیت بڑھانے، بدعنوانی کے خلاف اقدامات اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مؤثر پالیسیوں کی حمایت کے حوالے سے جانی جاتی ہیں۔

ان پر حملے کے بعد سیاسی رہنماؤں اور عوامی حلقوں کی جانب سے حمایت اور ہمدردی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ حکام نے تاحال حملے کے محرکات کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ جاری نہیں کیا۔