کراچی: راولپنڈی کی تنگ گلیوں میں ایک چھوٹی سی دکان ایسی بھی ہے، جہاں وقت کی گرد میں چھپی تاریخ کو دوبارہ چمکایا جاتا ہے۔ یہاں پیتل کے پرانے برتن، تانبے کے صراحی نما جگ، چائے دانیاں اور قدیم حقے صرف دھات کے ٹکڑے نہیں، بلکہ گزرے ہوئے زمانوں کی کہانیاں ہیں۔
اس دکان میں 72 سالہ احسن شکیل اپنی عمر کے اس حصے میں بھی ایک ایسا ہنر زندہ رکھے ہوئے ہیں جو جدید دور کی تیز رفتار زندگی میں آہستہ آہستہ ناپید ہوتا جا رہا ہے۔
کباڑ سے قیمتی نوادرات تک
راولپنڈی کے بھابڑا بازار میں واقع اپنی ورکشاپ میں شکیل 1980 سے قدیم اشیا کی مرمت اور بحالی کا کام کر رہے ہیں۔ ہوٹل میں باورچی کی ملازمت چھوڑ کر انہوں نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلنے کا فیصلہ کیا اور خاندانی ہنر کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا۔
آج وہ پاکستان کے ان آخری ماہر کاریگروں میں شمار ہوتے ہیں جو قدیم دھاتی برتنوں کو ان کی اصل خوب صورتی کے قریب لانے کا فن جانتے ہیں۔
ان کے پاس آنے والی بہت سی اشیا اس قدر خراب حالت میں ہوتی ہیں کہ عام خریدار انہیں بے کار سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہے۔ مگر شکیل کی نظر میں ان بوسیدہ برتنوں کے اندر ایک نئی زندگی چھپی ہوتی ہے۔
ہتھوڑے کی ضرب، چمک کی واپسی
ان کا کام محض دھات کو چمکانا نہیں، بلکہ اس کی اصل ساخت اور خوب صورتی بحال کرنا ہے۔ کہیں ہتھوڑے سے گہرے ڈینٹ نکالے جاتے ہیں، کہیں کوئلے کی آگ پر برتنوں کے اندر دوبارہ قلعی کی جاتی ہے، اور کہیں مشینی پہیے پر مسلسل رگڑ کے ذریعے دھات کو نئی آب و تاب دی جاتی ہے۔

کسی بری طرح متاثرہ نوادرات کو درست کرنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔ لیکن جب کام مکمل ہوتا ہے تو بظاہر بے کار دکھائی دینے والی چیز ایک بار پھر قیمتی نوادرات کا روپ دھار لیتی ہے۔
بحال کی گئی بعض اشیا کی قیمت 100 سے 1,000 امریکی ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ ان کے خریداروں میں نوادرات جمع کرنے والے شوقین افراد اور غیر ملکی خریدار بھی شامل ہیں۔
جدید دور میں ماضی کی یادیں
ایک زمانہ تھا جب تانبے اور پیتل کے برتن گھروں کی ضرورت اور شان سمجھے جاتے تھے۔ آج ان کی جگہ اسٹیل اور پلاسٹک کے برتنوں نے لے لی ہے۔ نتیجتاً قدیم دھاتی اشیا کی اہمیت سمجھنے والے افراد بھی کم ہوتے جا رہے ہیں۔

شکیل کے مطابق نوادرات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، لیکن گاہکوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ اب وہ خرید و فروخت کے لیے زیادہ تر آن لائن پلیٹ فارمز اور پیغام رسانی کی ایپلی کیشنز پر انحصار کرتے ہیں، کیونکہ عمر اور صحت کی وجہ سے پہلے کی طرح سفر کرنا ممکن نہیں رہا۔
شکیل احمد 56 سال کی عمر میں بھی اسی لگن سے قدیم دھاتی اشیا کی مرمت کرتے ہیں۔ ایک بڑی پیتل کی حقے کی نلکی پر ہتھوڑے سے چھوٹے چھوٹے نشانات درست کرتے ہوئے وہ اس ہنر کی اصل روح بیان کرتے ہیں کہ ہم جو کام کرتے ہیں، وہ مردہ چیزوں میں جان ڈالنے جیسا ہے۔

یہ الفاظ محض ایک کاریگر کی بات نہیں، بلکہ اس پورے فن کی حقیقت ہیں۔ ہر پرانے برتن پر وقت کے نشانات موجود ہوتے ہیں۔ ہر خراش، ہر ڈینٹ اور ہر تہہ اپنے اندر کسی گھر، کسی تہذیب یا کسی گزرے ہوئے دور کی یاد سمیٹے ہو سکتی ہے۔
تاریخ اور خاموش جدوجہد
احسن شکیل اور شکیل احمد جیسے کاریگر صرف اپنی روزی نہیں کما رہے، بلکہ ایک ایسے ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں جسے جدید طرزِ زندگی نے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

اگر یہ ہنر نئی نسل تک منتقل نہ ہوا تو ممکن ہے کہ مستقبل میں قدیم برتن تو عجائب گھروں اور نجی ذخائر میں باقی رہیں، لیکن انہیں اصل مہارت سے بحال کرنے والے ہاتھ نایاب ہو جائیں۔
راولپنڈی کی اس چھوٹی سی دکان میں گھومتا ہوا پالش کا پہیہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تاریخ صرف کتابوں میں محفوظ نہیں ہوتی۔ کبھی وہ ایک پرانے پیتل کے برتن میں بھی سانس لیتی ہے، اور اسے زندہ رکھنے کے لیے کسی ایسے کاریگر کی ضرورت ہوتی ہے جو دھات کے اندر چھپی کہانی کو پہچان سکے۔


